سہیل عبداللہ کی جبری گمشدگی کو 10 ماہ مکمل ، ہمشیرہ کا بھائی کی بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار نوجوان سہیل عبداللہ جس کی گمشدگی کو ایک سال ہونے کو ہے تاحال بازیاب نہیں ہوسکا۔

جبری لاپتہ نوجوان سہیل عبداللہ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے تحصیل تمپ دازن سے ہے جسے 11 اکتوبر 2024 کو بہمن سے لاپتہ کیا گیا جس کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

اہل خانہ ان کی بازیابی کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں مگر تاحال کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

لاپتہ سہیل عبداللہ کی ہمشیرہ نے اپنے بھائی کی رہائی کے لئے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ سہیل عبداللہ کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔

ان کا کہناہے کہ میرے بھائی سہیل بلوچ ولد عبداللہ دازن کو 11 اکتوبر کو تربت کہ علاقے بھمن سے جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔

ہمشیرہ نے کہا ہے سہیل کو اس وقت جبری گمشدگیاکا نشانہ بنایا جب وہ اپنے ایک دوست کے گھر پر بیماری کی وجہ سے رہائش پذیر تھا تاکہ ڈاکٹر کے پاس علاج معالجے کے لئے آنے جانے سے آسانی رہے۔ مگر اس وقت رات کی تاریکی میں پاکستانی فوج اور خفیہ اہلکاروں نے اسے اغوا کر کے لاپتہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک سہیل عبداللہ بلوچ کا کوئی پتہ نہیں ہے کہ کہاں اور کس حال میں ہے ۔

ہمشیرہ نے کہا ہے کہ سہیل عبداللہ پہلے سے ایک ذہنی مریض ہے اور اس کا علاج بھی چل رہا تھا اور اسی11 اگست کو سہیل عبداللہ کی غیرقانونی حراست کو گیارہ مہینہ پورا ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سہیل کے والد ان کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہو گئے ، اب اس کی ماں اس کی راہ تھک رہی ہے۔

انہوں نے تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ سہیل عبداللہ کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ اس کی باحفاظت واپسی ممکن ہوسکے۔

Share This Article