بلوچستان کے علاقے جھل مگسی اور کوہلو میں قبائلی اور گروہی تصادم کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
ضلع جھل مگسی کی تحصیل کوٹ مگسی میں بجیرانی اور مگسی برادری کے درمیان زمین کے پرانے تنازعے پر ہونے والی دشمنی ایک بار پھر خونریز تصادم میں تبدیل ہو گئی۔
پیر کے روز دونوں گروپوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ چھ افراد شدید زخمی ہو گئے۔
زخمیوں کو سول ہسپتال جھل مگسی منتقل کیا گیا ہے، جن میں بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ دشمنی 2018 میں زمین کے تنازعے پر شروع ہوئی تھی، جب بجارانی قبیلے کے چار افراد قتل کر دیے گئے تھے، جس کے بعد سے دونوں قبائل میں کشیدگی برقرار ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ کر کارروائی میں مصروف ہیں۔
مقامی عمائدین اور عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دشمنی ختم کرانے میں مثر ثالثی کا کردار ادا کرے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں ضلع کوہلو کی تحصیل ماوند کے علاقے مخماڑ میں دو گروہوں کے درمیان ذاتی تنازع پر ہونے والے تصادم میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
لیویز ذرائع کے مطابق تصادم کے دوران ڈنڈوں اور پتھروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔
جھگڑے میں سومار ولد کریم داد کنگرانی شدید زخمی ہوا، جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
لیویز فورس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہلو منتقل کیا، جہاں قانونی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔
لیویز حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی جاری ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔