لاپتہ افراد شہدا کے بهوک ہڑتالی کیمپ کو 4023 دن مکمل ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں سول سوسائیٹی اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کے علاوه مرد اور مرد خواتین نے اظہار یکجہتی کی.
وی بی ایم پی کے وائس چئیرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہوکر کہا کہ بلوچستان آگ خون کے منظر کو گہرا بنانے والی ریاستی طاقت آئے روز نئے انسانی المیوں اور جبر استبنداد کے بہمانہ مظاہرے سامنے لارہی ہے وه تمام علاقے جہاں وسیع سماجی بنیادیں ہیں.
مقتدره ریاستی قوتوں کی مسلح جارحانہ کارواہیوں اور مختلف سازشوں کا سب سے زیاده نشانہ بنائے جا رہے ہیں. فورسز اور خفیہ اداروں کے آپریشنز اور بلوچ نوجوانوں طلبا اور سیاسی و سماجی کارکنوں سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکهنے والے بلوچوں کی ماوراہے عدالت اغواه نما گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں اور لاپتہ بلوچوں کی تشدد زده مسخ لاشوں کی برآمدگی روز کا معمول بن چکی ہے. مگر حکمران قوتیں ان زمینی نا قابل تردید حقائق کو کسی کی زہنی اختراع قرار دے کر بلوچستان میں جاری فورسز کے آپریشن میں نظر آہی اس دوران فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بهاری فوجی ساز سامان اور کثیر نفری کے ساتھ بلوچستان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا جن میں مقامی آبادی کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچا معتدد عام بلوچ زخمی ہوے. عام لوگوں کی بڑی تعداد کو حراست میں لے کر غائب کردیا گیا. اس بے رحمانہ آپریشن کو جواز فراہم کرنے کے لئے سرکار نے گهروں کو لوٹا.
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اخلاقیات اعلئ انسانی جہموری اقتدار کے بناہی نہیں ہے. اور کوہی غیر اخلاقی غیر انسانی اور غیر جہموری عمل ہے تو اس بنیادی حق کو سلب اور اس کی بحالی کی جد جہد کرنے والوں کو بزور ریاستی طاقت کچلنے کا رویہ ہے حملہ آوروں کے خلاف کارواہی کرنے کا عزم اچھی بات ہے لیکن یہ تب بھی انصاف پر مبنی ہوسکتا ہے کہ یہ قابض اور مقبوضہ کے درمیان تفریق اور پہلے حملہ کرنے والے کا تعین کرکے کی جائے.