امریکی انتظامیہ نے اقوام متحدہ کے ثقافتی اور تعلیمی ادارے یونیسکو سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یونیسکو پر ’تفرقہ انگیز ثقافتی اور سماجی مقاصد‘ کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل آڈرے ازولے نے امریکہ کے اس فیصلے کو ’افسوسناک‘ لیکن ایک ’متوقع‘ اقدام قرار دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا عالمی ادارہ صحت اور پیرس ماحولیاتی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے ساتھ ساتھ غیر ملکی امدادی کوششوں کی فنڈنگ میں کٹوتی کے بعد بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کی کوششوں میں تازہ ترین قدم ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2017 میں اپنی پہلی صدارت کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ کو یونیسکو سے پہلی مرتبہ علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد میں جو بائیڈن کی انتظامیہ نے یونیسکو کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اوباما انتظامیہ کے دوران سنہ 2011 میں امریکہ نے یونیسکو کے لیے مختص 6 کروڑ ڈالر کے فنڈز کو روک دیا تھا۔
یونیسکو کے دنیا بھر میں 194 رکن ممالک ہیں اور یہ عالمی ثقافتی ورثے سے متعلق سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے۔ واضح رہے کہ یونیسکو سے امریکہ کی علیحدگی کے فیصلے کا اطلاق دسمبر 2026 سے ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یونیسکو کا بین الاقوامی ترقی کا عالمی اور نظریاتی ایجنڈا ہماری ’امریکہ فرسٹ خارجہ پالیسی‘ سے متصادم ہے۔
رپورٹ میں سنہ 2011 میں یونیسکو میں فلسطینیوں کی شمولیت کو امریکی پالیسی کے برعکس انتہائی مسائل سے بھرپور قرار دیا گیا اور اس سے تنظیم کے اندر اسرائیل مخالف بیانات کے پھیلاؤ میں مدد ملی۔
یونیسکو کے سربراہ آڈرے ازولے نے مزید کہا کہ ’ادارہ واشنگٹن کے اس اقدام کی تیاری کر رہا ہے اور اپنے فنڈز کے ذرائع کو متنوع بنا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت یونیسکو اپنے بجٹ کا تقریباً 8 فیصد امریکہ سے حاصل کر رہا ہے۔
پیرس میں قائم اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد نومبر سنہ 1945 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ تعلیم، فنون لطیفہ، سائنس اور ثقافت میں عالمی تعاون کے ذریعے امن اور سلامتی کو فروغ دیا جا سکے۔