پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے مختلف اضلاع میں پولیس کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری ہے۔
اس دوران پولیس سٹیشنوں اور دیگر اہم مقامات پر فرائض کی ادائیگی روک دی گئی ہے جبکہ پولیس سٹیشنوں کے باہر بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔
گذشتہ روز کشمیر بھر میں پولیس ملازمین نے حکومت کو دس نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا جس کے بعد ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر اور ایس ایس پی نے احتجاجی ملازمین سے مذاکرات کیے۔
مذاکرات کے نتیجے میں کوارٹر گارڈ کیے گئے پولیس اہلکار یاسر کھوکھر کو رہا کیا گیا اور اس کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں احتجاج کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔
تاہم حکام کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے بعد احتجاجی ملازمین کی نمائندہ تنظیم جمعیت پولیس نے ہڑتال ختم نہ کرنے کا اعلان کیا۔
احتجاج کرنے والے پولیس ملازمین کا دعویٰ ہے کہ یاسر کھوکھر سے ویڈیو بیان دباؤ میں لیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جمعیت پولیس اس بیان کو مسترد کرتی ہے اور ہڑتال جاری رہے گی۔
احتجاجی ملازمین کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رہے گی، اور آج مزید پولیس ملازمین احتجاج میں حصہ لینے کے لیے مظفرآباد پہنچیں گے۔
جمعیت پولیس کی جانب سے جاری کردہ دس نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ میں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کی تنخواہ فریز کر دی جاتی ہے اور 60 سال تک وہی تنخواہ دی جاتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس نظام کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ فکس ڈیلی الاؤنس 2022 کے ریوائز پے سکیل کے مطابق دیا جائے اور نارمل اور سپیشل اسٹیشن کا نظام ختم کیا جائے۔
چارٹر آف ڈیمانڈ میں ایک اور مطالبہ یہ ہے کہ رسک الاؤنس 2008 کی بیسک پے کے بجائے 2022 کی شرح کے مطابق دیا جائے۔ اس کے علاوہ، چارٹر آف ڈیمانڈ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو پاکستان اور کشمیر کے بڑے ہسپتالوں میں آرمی طرز پر ان ٹائٹلمنٹ دی جائے۔
اس کے علاوہ یونیفارم کی خریداری مرکزی پولیس دفتر سے ختم کی جائے اور یہ الاؤنس براہ راست ملازمین کو دیا جائے تاکہ یونیفارم کے معیار میں بہتری آئے۔
جمعیت پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات کے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے تو احتجاج ختم ہو سکتا ہے۔
کشمیر کے آئی جی پولیس رانا عبدالجبار نے پولیس دربار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ایک ڈسپلن فورس ہے اور جو پولیس ملازمین ڈسپلن شکنی کر رہے ہیں، وہ خود کو کمزور کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کسی کے کہے بغیر پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے حکومت کو لکھا تھا جس پر پیش رفت بھی ہوئی۔ تاہم انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خط کو چند پولیس اہلکاروں نے چارٹر آف ڈیمانڈ بنا کر احتجاج شروع کر دیا۔