اسلام آباد: بلوچ خواتین کو رہائشی فلیٹ سے بھی باہر نکال دیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں موجود بلوچ خواتین مظاہرین جوبلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں کی غیر قانونی گرفتاری اور جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے گذشتہ 6 دنوں سے سراپااحتجاج ہیں کو مسلسل ریاستی ہراسانی ، رکاوٹ اور بندشوں کا سامنا ہے۔

انہیں گذشتہ 6 دنوں سے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج کے حق سے بھی محرم رکھا گیا ہے لیکن وہ شدید دھوپ اور موسلا دھار بارش میں بھی بنا کسی ٹینٹ کے اپنا احتجاج رکھے ہوئے تھے۔

بعد ازاں انہیں پریس کلب جانے سے بھی روک دیا اورپولیس نے پریس کلب جانے والے تمام شاہراہیں خاردار تار یں لگاکر بند کردی تھیںاور لواحقین نے خاردار تاروںمیں اپنے لاپتہ پیاروں کی تصاویرلٹکا کرروڈ پر اپنااحتجاج جاری رکھا تھا۔

اب اطلاعات ہیں کہ لواحقین کو ان کی رہائشی فلیٹ سے بھی نکال دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے ان کے فلیٹ کا پانی بند کردیا گیا جبکہ بعد میں مالک مکان کو پریشر دی گئی کہ وہ انہیں نکال دیں۔جس کے بعد فیملیز کو رات کے وقت فلیٹ سے باہر نکال دیا گیا جنہوں نے رات باہر گزار دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اوپر سے آرڈر ہیں کہ انہیں کیمپ لگانے نہیں دیا جائےاور ان کی نقل و حرکت کو محدود کیا جائے۔

واضع رہے کہ ریاست کی جانب سے ایک بس بھی مظاہرے کے مقام پر لائی گئی جوماضی کی طرح زبردستی لواحقین کو واپس بلوچستان بھیجنے کے اقدامات کے طور پر دیکھی جارہی ہے۔

بلوچ لواحقین کو ریاست کی جانب سے مکمل تنگ کیا جارہا ہے اور ان پر ظلم کے تمام پہاڑ توڑے جارہے ہیں تاکہ وہ مجبور و بیزار ہوکر چلے جائیں لیکن ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم ہر قسم کی ریاستی اور موسمی جبر کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن ڈاکٹر ماہ رانگ و بی وائی سی دیگر رہنمائوں کی رہائی کے بغیر واپس نہیں جائینگے کیونکہ بی وائی سی قائدین کو غیر آئینی و غیر قانونی طور جیلوں میں رکھا گیا ہے ۔

Share This Article