بلوچستان میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر ایک لڑکی اور لڑکے کو سرعام قتل کر دیا گیا۔
یہ واقعہ کوئٹہ سے متصل مستونگ کے علاقے ڈغاری کے مقام پر عیدالاضحیٰ سے چند روز قبل پیش آیا، جس کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور شدید غم و غصے کا باعث بنی ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ ایک نوجوان لڑکے اور لڑکی کو عوامی ہجوم کے درمیان گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ یہ ویڈیو بظاہر کسی موبائل فون کیمرے سے بنائی گئی تھی، جس میں موقع پر موجود افراد کی بےحسی اور قاتلوں کے طرز عمل نے سماجی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
قتل کیے گئے نوجوان کی شناخت احسان سمالانی کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان واقعہ کے چند روز قبل موٹر سائیکل پر سوار تھا جب قاتلوں نے اس کا تعاقب شروع کیا۔ وہ قریبی ایک گھر میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گیا، تاہم مقامی افراد نے اسے بعد ازاں ملزمان کے حوالے کر دیا۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے کے مرکزی کردار لڑکی کا بھائی جلال ولد بار جان ساتکزئی، نصیر ساتکزئی اور جاڑو ساتکزئی نامی افراد ہیں۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے ملزم جلال خان کے روابط فورسز حکام سے ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ ایف سی کرنل نے ہی جلال خان کو اسلحہ فراہم کیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مقتولہ، جسے اندازہ تھا کہ اسے قتل کیا جائے گا، قرآن پاک اُٹھا کر قاتلوں کے سامنے پیش ہوئی۔ اس نے واضح طور پر کہا “صرف گولی مارنے کا حق ہے، بس سات قدم ساتھ چلو، پھر مار دینا۔” پھر قاتلوں نے اسے گولی مار دی۔
بعد ازاں احسان سمالانی جو پہلے ان کے تحویل میں تھا کو گولی ماری گئی۔ جب پہلی گولی سے وہ ہلاک نہ ہوا تو قاتل نےدوسری گولی اس کی آنکھ میں ماری گئی۔
اب حکومت کی جانب سے اس وائرل ویڈیو کی نوٹس لینے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وائرل ویڈیو پر پولیس کو کارروائی کا حکم دیا تھا۔
لڑکی کو قتل کرنیوالا ایک مشتبہ قاتل گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وڈیو میں مقتولین کی شناخت ہوگئی ہے۔واقعہ عید سے چند روز قبل رونما ہوا تھا۔ ریاست کی مدعیت میں دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ گھناؤنے واقعے پر قانون اپنا راستہ لے گا۔