بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں قلات اور کوئٹہ حملوں میں پاکستانی فوج کے 29 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قلات اور کوئٹہ میں دو مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج کو نشانہ بنایا۔ قلات میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی سرانجام دے کر قابض فوج کو شدید نقصانات سے دوچار کیا گیا، جبکہ کوئٹہ میں قابض فوج کو آئی ای ڈی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے خصوصی دستے فتح اسکواڈ نے قلات میں نیمرغ کراس کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کو لے جانے والی ایک بس کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے یہ کارروائی بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ زراب کی معلومات پر سرانجام دی۔
ان کا کہنا تھا کہ زراب مذکورہ بس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھا، جو قابض پاکستانی فوجی اہلکاروں کو کراچی سے کوئٹہ منتقل کر رہی تھی۔ حملے میں قابض فوج کے 27 اہلکار موقع پر ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے جن میں شدید زخمی بھی شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بس میں قوال فنکار بھی موجود تھے۔ مذکورہ فنکار ہمارے نشانے پر نہیں تھے، لیکن وہ قابض فوج کے اہلکاروں کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ اس حوالے سے ہم پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ قابض فوج سے محفوظ فاصلہ رکھا جائے تاکہ کسی قسم کے نقصان سے بچا جا سکے۔
دریں اثنا، بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں قابض پاکستانی فوج کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک اور سات اہلکار زخمی ہو گئے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ واضح کرتی ہے کہ یہ کاروائیاں قابض پاکستانی فوج کے خلاف ہماری مسلح جدوجہد کا تسلسل ہیں، جو بلوچستان کی آزادی کے لیے جاری ہے۔ ہم بلوچ عوام سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ قابض فوج، اس کے مراکز اور تنصیبات سے محفوظ فاصلہ رکھیں تاکہ کسی بھی غیر متعلق فرد کو نقصان نہ پہنچے۔ ہم اس عہد کو دہراتے ہیں کہ جب تک ہماری سرزمین پر قبضہ برقرار ہے، ہم اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے اور دشمن کو ہر مقام پر اس کے جرائم کا حساب دیتے رہیں گے۔