تمپ و جھائو سے پاکستانی فورسزہاتھوں 2 درجن سے زائد افراد جبری طور پرلاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ اور ضلع آواران کے علاقے جھائوسے پاکستانی فورسز نے 2 درجن سے زائد افراد کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے۔

فورسز نے یہ کارروائیاں آج بروز سوموار اور گذشتہ روز سر انجام دی تھیں۔

ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے اطلاعات ہیں کہ فورسز نے متعدد افراد کو جبری لاپتہ کردیا۔

جبری گمشدگیوں کا یہ واقعہ گذشتہ روز تمپ کے علاقے میرآباد میں پیش آیا جہاں پاکستانی فورسز نے بازار اور گردنواح کے علاقوں میں چھاپوں کے دوران متعدد افراد کو جبری لاپتہ کیا جن میں سے دیگر افراد رہا ہوگئے تاہم پانچ افراد تاحال فورسز کی تحویل میں ہیں۔

جبری لاپتہ افراد میں ایوب ولد واحد بخش، فضل ولد فدا، سعید ولد داد محمد، ضیاالحق ولد اسد اللہ اور عابد علی ولد اسد اللہ شامل ہیں۔

دوسری جانب ضلع آواران سے اطلاعات ہیں کہ جھاؤ میں فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران 20 سے زائد مقامی افراد کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق فورسز نے علاقے میں گھر گھر تلاشی کے دوران متعدد افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور حراست میں لے کر فوجی کیمپ منتقل کر دیا۔

تاحال ان افراد کے حوالے سے اہل خانہ یا مقامی آبادی کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔

آج بروزسوموارجب نامعلوم مسلح افراد نے فورسز کے لیے راشن لے جانے والی گاڑی کو روک کر راشن اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس واقعے کے بعد فورسز نے ردعمل کے طور پر علاقے میں گرفتاریوں کا آغاز کیا۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ جبری طور پر لاپتہ افراد کی لاشوں کے ملنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

Share This Article