لورالائی میں مسلح افراد کے ہاتھوں ہلاک 9 افراد کی لاشیں پنجاب منتقل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع لورالائی کے علاقے سرڈھاکہ میں گذشتہ روزمسلح افرادکی ناکہ بندی کے دوران ہلاک ہونے والے9 افراد کی لاشیں ڈیرہ غازی خان منتقل کرکے پنجاب حکام کے حوالے کردی گئیں ۔

ہلاک ہونےوالے 9 افراد کا تعلق لاہور، گجرات، خانیوال، گوجرانولہ، لودھراں اور مظفر گڑھ سے ہے۔

صابر حسین ولد محمد ریاض کا تعلق کامکی گوجرانولہ، محمد آصف ولد سلطان کا تعلق چوک قریشی ڈیرہ غازی خان، غلام سعید ولد غلام سرور کا تعلق خانیوال، محمد جنید کا تعلق لاہور اور محمد بلال ولد عبد الوحید کا تعلق اٹک جبکہ بلاول کا تعلق گجرات سے تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے مسافر بسوں کے چیکنگ کے دوران 9 افراد کو اتار کر انہیں قتل کردیاتھا۔

حکام کے مطابق ان مسافروں کو بلوچستان سے پنجاب جانے والی دو مسافر بسوں سے اتارا گیا اور یہ واقعہ جمعرات کی شام سرہ ڈاکئی نامی علاقے میں کوئٹہ کو ڈیرہ غازی خان سے ملانے والی قومی شاہراہ پر پیش آیا جہاں مسلح افراد نے ناکہ بندی کر رکھی تھی۔

اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے 9 مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ہلاک شدگان کی لاشوں کو پنجاب کے حکام کے حوالے کردیا گیا ہے اور انھیں ان کے آبائی علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے ایک بس سے دو جبکہ دوسری سے سات مسافروں کو اتارا اور ایک قریبی نالے میں لے جا کر گولیاں مار دیں۔

نوید عالم نے سوشل میڈیا پر وائرل ان ویڈیوز کی بھی تصدیق کی جن میں مذکورہ بسوں میں سے ایک کا مسافر یہ بتا رہا ہے کہ مسلح افراد نے بس میں سوار افراد کے شناختی کارڈ دیکھے۔

اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم کے مطابق مجموعی طور پر 8 مسافروں کی شناخت ہوگئی تاہم ایک مسافر کے دستاویزات حملہ آور اپنے ساتھ لے گئے۔

اب تک اس واقعہ کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے ۔

تاہم بی ایل یف کی آپریشن بام جاری ہے جس کے تحت اب تک بلوچستان بھر میں 80 سے زائد حملے کیے جاچکے ہیں۔

بی ایل ایف کے ترجمان میجر گھرام بلوچ نے جمعرات کی صبح ایک مختصر بیان میں اعلان کیا تھا کہ آپریشن بام کے تحت ریاستی اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ماضی میں اس طرح کی کئی کارروائیوں کی ذمہ داری بی ایل اے قبول کرچکی ہے اور انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ ہلاک کئے گئے افراد کو نسلی بنیاد پر نہیں بلکہ انہیں عسکری اداروں سے تعلق کی بنیاد پر قتل کیا گیا ہے۔

Share This Article