گزشتہ رات کیچ کے علاقے کولواہ، آشال اور ڈانڈار میں قائم پاکستانی فوجی کیمپ پر بلوچ سرمچاروں نے دو اطراف سے حملہ کیا، جس میں ایک فوجی ڈرون (کواڈ کاپٹر) کو بھی مار گرایا گیا۔
رات تقریباً گیارہ بجے جب پاکستانی فوج کی چار گاڑیوں پر مشتمل کمک موقع پر پہنچی، تو سرمچاروں نے گھات لگا کر دوبارہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
تاحال بی ایل ایف کی جانب سے اس کارروائی کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بی ایل ایف کے جاری آپریشن بام کا حصہ تھا۔ اس آپریشن کے تحت اب تک بلوچستان بھر میں 80 سے زائد حملے کیے جاچکے ہیں۔ بی ایل ایف کے ترجمان میجر گھرام بلوچ نے جمعرات کی صبح ایک مختصر بیان میں اعلان کیا تھا کہ آپریشن بام کے تحت ریاستی اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
مقامی میڈیا میں ان حملوں کی خبریں تسلسل سے آرہی ہیں، جن کی تعداد اب اسی سے تجاوز کرچکی ہے۔ بی ایل ایف ذرائع کے مطابق آپریشن کے بیشتر اہداف حاصل کرلیے گئے ہیں، تاہم اس کے اختتام کا اعلان اس وقت کیا جائے گا جب طے شدہ منصوبوں پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہوگا۔
غیر جانبدار صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بی ایل ایف کے سابقہ حملوں کی نسبت غیرمعمولی اور منظم ہیں۔ تاہم، بی ایل ایف کی روایت ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے گریز کرتا ہے، اسی لیے ترجمان صرف مختصر بیانات کے ذریعے میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کر رہا ہے۔
ادھر، پاکستانی سیکورٹی اداروں سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن بام نے دفاعی حلقوں میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے، اور جب تک اس آپریشن کے خاتمے کا اعلان نہیں ہوتا، کسی بڑے حملے کا خدشہ موجود رہے گا۔