حب میں 4 بلوچ خواتین سمیت پانچ افراد کو بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں رکھا گیا ہے،سمی دین

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما اور ایوراڈ یافتہ سرگرم انسانی حقوق کارکن سمی دین بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے حب چوکی میں زیشان زہیر کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف ایک پرامن احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا، جو لسبیلہ پریس کلب کے سامنے ہونا تھا۔ تاہم جب مظاہرین پریس کلب کے سامنے پہنچے، تو پولیس اور انتظامیہ نے انہیں احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔پرامن مظاہرین نے احتجاج کو حب مین روڑ پر منتقل کیا، لیکن وہاں بھی پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین پر دھاوا بول دیا۔ اس دوران چار خواتین اور ایک مرد کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے وقت مظاہرین کی مزاحمت پر پولیس کے ساتھ موجود سادہ لباس اہلکاروں نے فائرنگ بھی کی، اور متعدد مظاہرین کو زدوکوب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ چوبیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود گرفتار افراد سے نہ ان کے اہلِ خانہ اور نہ وکلا کی ملاقات کروائی گئی ہے، اور پولیس ان کی موجودہ لوکیشن کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ اب تک ان افراد کے خلاف نہ کوئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اور نہ ہی کسی مقدمے کی تفصیل سامنے لائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چار خواتین سمیت پانچ افراد کو بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں رکھنا نہ صرف ریاستی اداروں کی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے، بلکہ یہ آئین، قانون اور اظہارِ رائے کی آزادی پر کھلا حملہ ہے۔

سمی بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن مظاہروں پر ریاستی کریک ڈاؤن اور طاقت کا استعمال اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست خود ایک پرامن اور منظم تحریک سے خائف ہے۔ ایک ایسی تحریک جو ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے، اسے دبانے کی کوشش بذاتِ خود ظلم کی تصدیق ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article