پاکستانی خفیہ اداروں اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے غلام حیدر کرد کے اہلخانہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے احتجاجی کیمپ کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے لاپتہ غلام حیدر کرد کے لواحقین نے بتایا کہ غلام حیدر کرد ولد جمعہ خان کو 12 مارچ 2026 کو کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس، گلی نمبر 19 نزد کلی پرکانی سے سی ٹی ڈی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے رات کے اندھیرے میں چھاپہ مار کر حراست میں لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ واقعے کو مہینے گزر جانے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی معلوماتی سراغ فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے پورا خاندان شدید ذہنی کرب کا شکار ہے۔
اہلخانہ نے کہا کہ اگر غلام حیدر کرد پر کوئی جرم ثابت ہے یا ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں ملک کی کسی بھی عدالت میں پیش کر کے قانونی حقوق اور دفاع کا موقع دیا جائے، اس طرح غیر قانونی طور پر لاپتہ رکھنا آئین، قانون اور انسانی حقوق کی شدید ورزی ہے۔
اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے 2 فروری کو صوبائی اسمبلی کے ایوان میں دعویٰ کیا تھا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے گا اور حراست میں لیے گئے افراد کے اہلخانہ کو ملاقات کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام دعوے اور یقین دہانیاں صرف لفظی جمع خرچ اور جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئی ہیں، کیونکہ بلوچستان بھر سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور اور تیزی کے ساتھ جاری ہے۔
نصراللہ بلوچ نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسمبلی کے ایوان میں کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے ریاست کی جانب سے جاری جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو فوری طور پر بند کروائیں اور غلام حیدر کرد سمیت تمام لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔