جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) کے سیکرٹری برائے بین الاقوامی امور ، مصنف اور سیاسی رہنما حبیب الرحمٰن نے ‘جنیوا ٹائمز’ کو ایک اہم اور تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، ریاستی جبر اور عوامی مزاحمت پر عالمی ادارے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی فوری توجہ اور مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
جنیوا میں تین خواتین صحافیوں کی جانب سے کیے گئے اس انٹرویو میں حبیب الرحمٰن نے خطے کے اندر ریاستی سطح پر پرامن عوامی سیاسی تحریکوں پر تشدد، مواصلاتی پابندیوں اور انسانی حقوق کے بحران کا پردہ چاک کیا۔
حبیب الرحمٰن نے انکشاف کیا کہ معاشی انصاف، بجلی و آٹے پر سبسڈی اور بنیادی حقوق کے لیے شروع ہونے والی ‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ (JKJAAC) کی پرامن تحریک کو ریاست نے پروسکرائب (کالعدم) کر کے اور بلاجواز طاقت کا استعمال کر کے ایک مکمل انسانی حقوق کے بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے راولاکوٹ اور دیگر اضلاع میں مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مواصلاتی پابندیاں اس لیے عائد کرتی ہے تاکہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حقائق دنیا کے سامنے نہ آ سکیں۔
انہوں نے ریاستی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جن شہریوں کو صرف پرامن سیاسی اظہار، احتجاج یا اسمبلی کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے انہیں فوری رہا کیا جائے، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند ہو اور فورسز کے تشدد پر آزادانہ و شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔
ایک انوکھے نقطہ نظر کے تحت، حبیب الرحمٰن نے واضح کیا کہ حقیقی جمہوریت صرف اپنے حق کے لیے بات کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ جمہوری اخلاقیات کا اصل تقاضا اپنے سیاسی مخالفین اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے بنیادی اور جمہوری حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
جنیوا میں اس آواز کو بلند کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے صرف اس وقت متحرک نہ ہوں جب خطے میں تشدد یا جانی نقصان حد سے بڑھ جائے، بلکہ کشمیری و گلگتی عوام کو خوف سے آزاد زندگی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دلانے کے لیے مسلسل اور فعال نگرانی قائم کریں۔