بلوچستان بھر میں بلوچ آزادی پسند تنظیموں کے گوریلا حملوں کی شدت میں روز افزوں اضافے کے ساتھ ہی پاکستانی فوج پر ہلاکت خیز حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے قریب ڈغاری اور ضلع سوراب کے علاقے گدر میں فوجی قافلوں پر دو علیحدہ مسلح حملے کیے گئے ہیں، جن میں قابض فورسز کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلا واقعہ کوئٹہ سے محض 27 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ڈغاری کے مقام پر سبی روڈ پر پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں پر مشتمل اہم قافلے کو گھات لگا کر حملے کا نشانہ بنایا۔
کوئٹہ کے اس قدر قریب فوجی قافلے پر حملے نے سیکیورٹی اداروں کے سیکیورٹی دعوئوں اور نام نہاد رٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔ عسکری حکام روایتی پالیسی کے تحت معمول کے مطابق حملے اور ہونے والے جانی نقصان کو چھپانے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب ضلع سوراب کے علاقے گدر میں بھی فورسز کے قافلے پر ایک اور کامیاب کارروائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز شام پانچ بجے کے قریب مسلح افراد نے گدر گریڈ اسٹیشن کے قریب سے گزرنے والی فورسز کی تین گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر شدید حملہ کر دیا۔ ناگہانی حملے کے نتیجے میں فورسز کی گاڑیاں شدید متاثر ہوئیں اور اہلکاروں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ان تازہ ترین حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی مسلح تنظیم نے باقاعدہ اعلامیے میں قبول نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ پورے بلوچستان میں بلوچ آزادی پسند گوریلائوں کی جانب سے پاکستانی فوجی قافلوں، چوکیوں اور سرکاری املاک پر حملوں کے ساتھ ساتھ اہم شاہراہوں کی ناکہ بندیوں کا سلسلہ شدت سے جاری ہے، جس نے پاکستانی فوج کو مکمل طور پر دفاعی اور شدید نفسیاتی دباؤ میں دھکیل دیا ہے۔