بلوچستان یونیورسٹی طلبہ طالبات کا ہاسٹلزنہ کھولنے پر امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان یونیورسٹی کے طلبہ طالبات نے کہا ہے کہ اگر فائنل ٹرم کے امتحانات سے پہلے ہاسٹل دوبارہ نہ کھولے گیئے تو ہم، یونیورسٹی آف بلوچستان کے تمام طلبہ و طالبات، فائنل ٹرم کے امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں۔ جب تک ہاسٹل نہیں کھولا جاتا، ہم امتحانات میں شرکت نہیں کریں گے۔

یونیورسٹی آف بلوچستان کے طلبہ و طالبات کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہے، حال ہی میں یونیورسٹی آف بلوچستان میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان کسی معاملے پر جھگڑا ہوا۔ اس موقع پر یونیورسٹی انتظامیہ کا فرض تھا کہ وہ دونوں تنظیموں کے ذمہ داران کو بلا کر اس تنازعے کو تنظیمی سطح پر یا انتظامیہ کی طرف سے کارروائی کے ذریعے حل کرتی، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انتظامیہ نے مسئلہ حل کرنے کے بجائے پولیس کو بلایا، جس سے معاملہ مزید بگڑ گیا۔

انہوں نے کہا کہ مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ رات کے وقت پولیس کو ہاسٹل بھیجا گیا اور زبردستی ہاسٹل خالی کروایا گیا۔ اُس وقت ہاسٹل میں صرف وہ طلبہ موجود تھے جن کا اس لڑائی سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن انہیں رات گئے ہاسٹل سے باہر نکال دیا گیا۔ یہ سب اس وقت کیا گیا جب اگلے ہفتے سے فائنل ٹرم کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہاسٹل میں زیادہ تر وہ طلبہ رہائش پذیر تھے جن کے پاس باہر رہنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے۔ اب جب کہ امتحانات قریب ہیں، ہاسٹل خالی کروانا ہمارے تعلیمی سال کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ باہر رہ کر وہ تعلیمی ماحول اور سہولیات میسر نہیں جن کے ذریعے طلبہ اپنی تیاری بہتر طور پر کر سکیں۔ہم یونیورسٹی انتظامیہ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ہاسٹل دوبارہ کھولے تاکہ طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

ان کے مطابق اگر فائنل ٹرم کے امتحانات سے پہلے ہاسٹل دوبارہ نہ کھولا گیا تو ہم، یونیورسٹی آف بلوچستان کے تمام طلبہ و طالبات، فائنل ٹرم کے امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں۔ جب تک ہاسٹل نہیں کھولا جاتا، ہم امتحانات میں شرکت نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام اساتذہ کرام اور طلبہ تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس بائیکاٹ میں ہمارا ساتھ دیں۔

Share This Article