سردار بھگت سنگھ اور سلمان حمل بلوچ کے مقاصد اور کاروائیوں میں مماثلت – تحریر , رحیم بلوچ ایڈوکیٹ

ایڈمن
ایڈمن
13 Min Read

ترجمہ۔ وقاص شیخ

جون ,29، 2020 کو ، اچھی طرح سے مسلح چار افراد نے کراچی اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) ، کراچی پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں دس سکیورٹی گارڈز اور چار حملہ آوروں سمیت دس افراد جان بحق ہوگئے تھے اور آدھ درجن پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ بریکنگ نیوز کی دوڑ میں ، پاکستان کے میڈیا نے اس حملے کو عام شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بیان میں بھارت کو حملے کی منصوبہ بندی کرنے اور اس کی سرپرستی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پاکستان کی فوج ، کٹھ پتلی وزیر اعظم ، سیاست دان ، متعصب اور مقید میڈیا نے بھارت کو مورد الزام ٹھہرانے اور بلوچ آزادی پسندوں کو پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسیوں کے طور پر پیش کرنے کی اپنی روایتی بیانیہ بیچنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوا۔ پاکستان کے جھوٹے پروپیگنڈے کے زیرِ دباؤ ، ہندوستانی میڈیا کے ایک معمولی حصہ نے ایک دفاعی رویہ اختیار کی اور اس واقعے کے پاکستانی بیانیہ کو آگے بڑھایا۔ تاہم بڑے بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فارمز اور تنظیموں نے اس واقعے کی پاکستانی بیانیہ کو نہیں اپنایا۔ واقعے کے فورا بعد ، بلوچ لبریشن آرمی نے ایک مختصر بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ۔واشنگٹن پوسٹ ، خلیج ٹائمز ، رائٹرز ، سی این این ، الجزیرہ اور متعدد دیگر ممتاز میڈیا تنظیموں نے حملہ آوروں کا ذکر دہشت گرد کے طور پر نہیں بلکہ بلوچ علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کے طور پر کیا۔ غیر جانبدار میڈیا نے اس واقعے کو پاکستان اور چین کے معاشی مفادات پر حملہ قرار دیا ہے۔

بعدازاں بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیہند بلوچ نے ایک تفصیلی بیان میں پی ایس ایکس ، کراچی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ اس کے مجید بریگیڈ نے کیا تھا ، جو فدائی مشنوں کو انجام دیتا ہے۔ بی ایل اے کے ترجمان نے حملہ آوروں کی شناخت ظاہر کی تفصیل کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اس طرح ہے: سلمان حمل بلوچ عرف نوتک ساکن مند ٹاؤن تربت (آپریشن کمانڈر) ، تسلیم بلوچ عرف مسلم ساکن دشت ٹاؤن تربت ، شہزاد بلوچ عرف ساکن پروم، پنجگور اور سراج کنگور عرف یاگی ساکن قصبہ شاپوک تربت۔

اپنے تفصیلی بیان میں ، بی ایل اے نے غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزام کی واضح طور پر تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ "شہریوں کو نشانہ بنانا ہمارے جنگی فلسفہ کا حصہ نہیں ہے۔ اپنے دشمن کے برعکس ، ہم لی گئی معصوم جانوں کی گنتی کرکے کامیابی کی شرح کو نہیں ماپتے ہیں لیکن ہماری کامیابی استحصالی اسکیم کے محافظوں اور اس کی تمام علامتوں کو نشانہ بنانے میں مضمر ہے۔ پی ایس ایکس ، کراچی حملے کے دوران ، حملہ آوروں کو واضح احکامات دیئے گئےتھے کہ عام شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں ، نہ ہی اعلیٰ دھماکہ خیز مواد کا استعمال کریں جو عام شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈال دے، بی ایل اے ترجمان نے مزید کہا کہ ہم نے حملہ کیلئے اس دن اور وقت کا انتخاب کیا جب عمارت کے قریب کوئی شہری موجود نہ تھا۔ ہمارے فدائین (خود قربانی دینے والے ساتھیوں) نے عام شہریوں کی جانوں کو کم سے کم ہلاکتوں کے ساتھ اپنے مشن کو پورا کیا۔
بی ایل اے کے ترجمان نے پی ایس ایکس ، کراچی پر حملہ کرنے کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حملے کا ہدف پاکستان کی معیشت تھی جو مقبوضہ بلوچستان کے وسائل کی پچھتر سال طویل استحصال پر کھڑی ہے اور ان کی تنظیم پی ایس ایکس ، کراچی کو پاکستانی معیشت کے بیس کے طور پر دیکھتی ہے اور پاکستان کی استحصالی مشینری کی علامت۔ انہوں نے مزید کہا کہ "حملے کا مقصد صرف پاکستان کے ہی نہیں بلکہ چینی معاشی مفادات کو بھی نقصان پہنچانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ "نہ صرف پاکستان بلکہ چین بھی بلوچستان کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہے۔ ہم اس سے پہلے چین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے میں توسیعی پسند اور استحصالی عزائم ترک کرے۔ ماضی میں مجید بریگیڈ نے کراچی میں چینی قونصل خانہ، دالبندین میں چینی انجینئرز اور پی سی ہوٹل گوادر میں چینی مندوبین پر حملہ کیا ہے۔ شنگھائی اسٹاک ایکسچینج ، شینزین اسٹاک ایکسچینج ، اور چین فنانشل فیوچر ایکسچینج کے توسط سے چین پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تقریبا 40 فیصد ایکویٹی رکھتا ہے۔ جیہند نے متنبہ کیا ، "اگر چینی بلوچستان کے استحصال میں حصہ لیتے رہے تو انہیں مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شہید سلمان حمل بلوچ اور ان کے لافانی ساتھیوں نے ’پی ایس ایکس کراچی پر حملہ ، مجھے برسوں پیچھے تاریخ میں لے گیا اور مجھے شہید سردار بھگت سنگھ اور ان کے بے لوث کامریڈ ایس جے کی یاد دلادی۔ 8 اپریل 1929 کو ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے دوران سردار بھگت سنگھ اور بٹوکیسور دت برطانوی ہندوستان کی مرکزی قانون ساز اسمبلی میں بم پھینکے تھے۔

یہاں میں شہید بھگت سنگھ اور شہید سلمان حمل بلوچ اور ان کے لافانی ساتھیوں کے برسوں مشنوں میں کچھ مماثلت دیکھتا ہوں جن کے بارے میں ذیل میں بحث کی گئی ہے:

ایک – بھگت اور اس کے ساتھی ، بے ضرر پھینک کر، نوآبادیاتی حکمرانوں اور دنیا کی توجہ برصغیر ہند کے محکوم لوگوں کی حالت زار کی طرف مبذول کرنا چاہتے تھے۔ اسمبلی بم کیس میں ، بھگت سنگھ اور بی کے دت کی طرف سے سیشن جج ، دہلی کی عدالت میں ، 6 جون ، 1929 کو دائر تحریری بیان میں ، انہوں نے اپنے بم دھماکے کے پیچھے اپنا مقصد ظاہر کرتے ہوئے کہا: "ہمارا واحد مقصد تھا بہرے کو اپنی آواز سنانا اور غافل بروقت انتباہ دینا۔ "

اسی طرح ، شہید سلمان حمل بلوچ اور ان کےجان نثار ساتھی دنیا کی توجہ آزادی کے لئے بلوچ قوم کی امنگوں اور جدوجہد کی طرف مبذول کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس حد تک بلوچستان کی آزادی کے لئے بلوچ عزم کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے اس عظیم مقصد کے لئے خود کو قربان کردیا ہے۔ ان کا یہ ارادہ بھی تھا کہ وہ بلوچستان کے وسائل کو لوٹنے کی پاک چین ملی بھگت اور بلوچ قومی دولت کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی استعماری استحصال پر ان معیشتوں کی تعمیر کے خلاف بلوچ مزاحمت کی حد کو بھی ظاہر کریں۔

دو- شہید بھگت اور بی کے دت نے محض چند افراد کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ اس کے بجائے ان کا ارادہ یہ تھا کہ برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کو بے اختیار مرکزی مجلس قانون ساز اسمبلی کی عدم افادیت کو بے نقاب کیا جاسکے ،جو برطانوی غاصبوں کے ہاتھوں میں صرف ایک آلہ اور ہندوستان کے عظیم لوگوں کے لئے رسوا ئی تھا۔ اسی لئے انہوں نے اسمبلی میں ایسے بم پھینکے جو جان بوجھ کر بےضرر بنائے گئے تھے۔ یہاں تک کہ ان بے ضرر بموں کو زیادہ تر اسمبلی میں خالی جگہوں پر پھینک دیا گیا تھا تاکہ کسی کو نقصان پہنچانے سے بچا جاسکے۔

اسی طرح ، شہید سلمان حمل بلوچ اور اس کے لافانی ساتھی بھی بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے یا ان کا قتل عام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ پولیس کی تمام اطلاعات کے مطابق ، پی ایس ایکس کراچی پر حملہ آور بھاری ہتھیاروں سے لیس تھے۔ ان کے بیک بیگ میں بڑی مقدار میں گولہ بارود اور دستی بم تھے۔ پاکستان کے وزیر اعظم ، اس کے متعصب اور کنٹرولڈ میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈے کے برخلاف ، ان کا ارادہ شہریوں کو نقصان پہنچانے کا نہیں تھا۔ اگر وہ زیادہ سے زیادہ بے گناہ لوگوں کا قتل عام کرنا چاہتے تھے تو ، وہ آسانی سے کسی مال ، مسجد ، ریلوے اسٹیشن ، پبلک بس اسٹاپ ، پارکس اور کسی بھی عوامی جگہ کو نشانہ بناسکتے تھے جیسے جہادی عام طور پر کرتے ہیں لیکن وہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ صرف دشمن کی معیشت کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں جو بلوچستان کے وسائل کو لوٹنے پر بنایا گیا ہے۔
تاہم ، ان کے اپنے اپنے مشن کو ختم کرنے کے طریقہ میں صرف ایک لیکن قابل ذکر فرق ہے۔ بھگت اور بی۔ دت نے بم پھینکنے کے بعد ، خود کو پولیس کے حوالے کردیا ، کیونکہ انہیں تشدد اور ماورائے عدالت قتل کا کوئی خوف نہیں تھا۔ ان کے برطانوی دشمنوں کا تعلق ایک مہذب ملک سے تھا جو اپنے قوانین اور عدالتی نظام پر یقین رکھتے تھے بھگت اور بی۔ دت برطانوی ہندوستانی عدالتی نظام کا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے وہ مقدمہ کی کارروائی کو اپنے مقاصد کو عام کرنے اور اپنے اغراض کو فروغ دینے کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔

جبکہ سلمان حمل بلوچ اور اس کے ساتھیوں نے ہتھیار ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا کیونکہ ان کا دشمن پاکستان غیر مہذب اور لاقانون ریاست ہے۔ پاکستان کے حکام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آئین ، قانون کی حکمرانی ، عدالتی نظام ، جمہوری اصولوں، بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ پاکستان عداوت اور بربریت کے ساتھ اختلاف رائے کو ختم کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ پاکستان کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بلوچ تحریک آزادی کا مقابلہ کرنے کیلئے تشدد، جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل وغارت گری کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ہی -بھگت سنگھ اور سلمان حمل بلوچ ۔ کے آزادی پسند جنگجو دستوں نے اپنا پیغام پہنچانے کے لئے یکساں طریقے کا انتخاب کیا تھا لیکن پاکستان اور برطانیہ کے اقدار میں فرق کی وجہ سے دونوں- بھگت سنگھ اور سلمان حمل بلوچ ۔ نے اپنے اپنے مشن کو مختلف طریقوں سے ختم کردیا.

اس وقت کے برطانوی ہندوستان کے نوآبادیاتی حکمرانوں ، ان کے نظام عدل ، اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے مذمت کے باوجود تاریخ نے بجا طور پر سردار بھگت سنگھ ، بی۔ دت ، اور دیگر تمام ہندوستانی آزادی پسند جنگجو کو قومی ہیروز کی پہلی صف میں جگہ دی ہے یقینا بلوچ تاریخ بھی یہی اعزاز سلمان حمل بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو دے گی۔


رحیم بلوچ ایڈووکیٹ آزادی پسند رہنما، بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے سابق سکریٹری جنرل اور سابق چیئرمین بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment