بلوچ طلبا کیساتھ پاکستانی اداروں کا امتیازی سلوک تعلیم سے دور رکھنے کی پالیسی ہے،رحیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابق سیکرٹری جنرل رحیم ایڈووکیٹ بلوچ نے شوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد سمیت پنجاب اور کراچی کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچ اسٹوڈنٹس کو محض ان کی بلوچ شناخت اور مقبوضہ بلوچستان سے تعلق کی بنیاد پر حراساں کرنا، ان کا پیچھا کرنا، پولیس تھانوں اور دفاتر میں انھیں طلب کرکے ان کے موبائل فونز کو چیک کرنا یا چھین کر قبضہ میں لینا، سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں کی جانچ کرنا، اغواء کرکے انھیں جبری لاپتہ کرنا، بلا ثبوت و جواز انھیں آزادی پسند بلوچ مسلح تنظیموں سے جوڑنے کی کوشش کرنا پاکستانی ریاست کی سوچی سمجھی پالیسی ہے۔

‏انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ طلباء کے خلاف ایسے اقدامات کو پاکستانی ریاستی ادارے معمول بنانے کی کوشش کر رہی ہیں مگر بلوچ قوم اپنے بچوں کے ساتھ ایسے امتیازی سلوک کو کبھی بھی معمول کی کارروائی قبول نہیں کرتے۔ ریاستی اداروں کے ایسے اقدامات واضح طور پر بلوچ اسٹوڈنٹس کی نسلی پروفائلنگ ہے۔ یہ بلوچ طلباء کے ساتھ نسلی امتیاز اور نفرت کی ریاستی پالیسی کا مظہر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کی ایسی بلوچ دشمن پالیسی سے طلباء کا ذہنی دباؤ میں رہنا، ان کی نصابی سرگرمیوں، امتحانی نتائج اور ذہنی صحت پر منفی اثر پڑنا یقینی بات ہے۔ ہر کوئی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ ہر وقت بلاوجہ طلب کیے جانے، پریشان کن سوالات پوچھے جانے، گرفتار اور جبری لاپتہ کئے جانے کی خوف کے سائے میں پڑھائی کرنا اور ذہنی سکون کے ساتھ رہنا کسی کیلئے ممکن نہیں ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کے ساتھ پاکستانی ریاستی اداروں کے اس امتیازی سلوک کا مقصد یہ ہے کہ طلباء تنگ آکر اپنا تعلیمی کورس ادھورا چھوڑ کر گھر بھاگ جائیں۔ کیونکہ قابض پاکستانی حکمران بلوچ نسل کشی کی ریاستی پالیسیوں اور جبر و استبداد کے خلاف بلوچ قوم، خصوصاً تعلیم یافتہ باشعور نوجواوں کی مزاحمت اور ان میں قومی آزادی کے بڑھتے جذبہ سے خوفزدہ ہیں۔

‏انہوں نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد میں سے چند ایک اگر بازیاب ہوتے ہیں تو بعض سادہ لوح بلوچ اطمینان اور شکر گزاری کا اظہار کرتے ہیں جبکہ ایسے مواقع پر خوش یا شکر گزار ہونے کے بجائے ان کی جبری گمشدگی کے ذمہ دار ریاستی اداروں کی احتساب اور انھیں سزا دلوانے کیلئے آواز اٹھانا چاہیئے کیونکہ بازیابی کے بعد جبری لاپتہ افراد کی جسمانی صحت شاید کسی حد تک بحال ہوسکے مگر ان کی ذہنی، نفسیاتی اور روحانی تندرستی کی بحالی ممکن نہیں ہے۔

رحیم بلوچ نے آخر میں کہا کہ جبری لاپتہ طلباء گمشدگی کے دوران جس ذہنی و جسمانی اذیت سے گزرتے ہیں کیا محض رہائی سے اس کا ازالہ ممکن ہے؟ کیا بازیابی کے بعد ان کے کلاس فیلوز، اساتذہ اور معاشرے کا رویہ ان کے ساتھ پہلے جیسا رہتا ہے؟ یقیناً ان سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ عالمی قوانین کے تحت جبری گمشدگی، نسلی پروفائلنگ اور امتیازی سلوک انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔ بلوچ فرزندوں کے خلاف ایسے جرائم پر آواز اٹھانا، ریاست پاکستان اور اس کے متعلقہ سکیورٹی اداروں کو سزا دلوانے تک جدوجہد جاری رکھنا ہم سب کا قومی اور انسانی فرض ہے۔

Share This Article
Leave a Comment