خضدار ومشکے سے 2 زیر حراست لاپتہ نوجوان قتل،حب سے لاش برآمد

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور زیرِ حراست افراد کے قتل کا سلسلہ گھمبیرتا کے ساتھ جاری ہے۔مزید 2 افراد کو قتل کرکے لاشیں پھینک دی گئیں۔

خضدار کے علاقے زیدی سے جبری لاپتہ نوجوان کی لاش گزشتہ روز برآمد ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق، خالد ولد صالح محمد زہری کو 23 مارچ 2025 کی شب 11 بجے پاکستانی فورسز کے اہلکار ان کے گھر واقع زیدی سے حراست میں لے گئے تھے۔

گزشتہ تین ماہ سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔ تاہم، گزشتہ روز خالد زہری کی مسخ شدہ لاش کھوڑی زیدی سے برآمد ہوئی۔

ذرائع کے مطابق، انہیں حراست کے دوران قتل کر کے لاش کو ویرانے میں پھینک دیا گیا۔

اسی طرح بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل مشکے میں فورسز نے زیرِ حراست شخص کو قتل کر کے اس کی تشدد زدہ لاش پھینک دی۔

ذرائع کے مطابق قتل ہونے والے شخص کی شناخت قادربخش ولد ہرزی کے نام سے ہوئی ہے، جو مشکے کے علاقے کھنڈری کے رہائشی تھے۔

انہیں گزشتہ رات تقریباً دو بجے فورسز اور سرکاری حمایت گروہ کے کارندوں نے ان کے گھر سے زبردستی اغوا کیا تھا، جس کے بعد آج ان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قادربخش بیمار تھے۔ فورسز نے انہیں حراست میں لینے کے بعد بازار کی طرف لے جا کر کچھ دیر بعد قتل کر دیا۔

علاوہ ازیں صنعتی علاقے حب میں جام کالونی سے نعش برآمدہوئی ہے۔

ایدھی ذرائع کے مطابق حب کے علاقےجام کالونی ٹویوٹا شوروم کے قریب ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی جسے ایدھی ایمبولینس کے ذریعے حب سول اسپتال منتقل کیا گیا۔

Share This Article