بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں آل پارٹیز کیچ، انجمن تاجران کیچ، بارڈر ٹریڈ نمائندگان اورگاڑی مالکان نے ایران کے عبدوئی بارڈر بندش کے خلاف جاری احتجاجی دھرنا کے ساتھ ساتھ احتجاجی شیڈول کا اعلان کردیا جس کے مطابق یکم جولائی بروز منگل کو تربت شہرمیں شٹرڈاؤن، 3جولائی بروز جمعرات کو احتجاجی ریلی اور7جولائی کو مکمل پہیہ جام ہڑتال اور 10جولائی کو ہوشاپ کے مقام پر ایم 8روڈ کو بند کیا جائے گا۔
یہ اعلان اتوار کی شام ڈی بلوچ کے مقام سی پیک شاہراہ پر بارڈر بندش کے خلاف جاری دھرنا گاہ سے حق دوتحریک بلوچستان کے چیئرمین حسین واڈیلہ، آل پارٹیز کیچ کے کنوینر نواب شمبے زئی، انجمن تاجران کیچ کے رہنما حاجی کریم بخش، کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر سیدمجید شاہ ایڈووکیٹ نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پریس کانفرنس میں آل پارٹیز کیچ کے نمائندگان بی این پی کے ضلعی نائب صدر حاجی عبدالعزیز، شے نوروز، محسن بلوچ، بی این پی عوامی کے مرکزی نائب صدر چیئرمین ظریف زدگ، نیشنل پارٹی کیچ کے صدریونس جاوید، فداجان بلیدی، جماعت اسلامی کیچ کے رہنما غلام یاسین بلوچ، انجمن تاجران کیچ کے چیئرمین نثار آدم جوسکی، مرکزی جمعیت اہل حدیث تحصیل تربت امیر مولانا عاقل برکت، حق دو تحریک کے مرکزی وائس چیئرمین حاجی ناصر پلی زئی، حفیظ کیازئی، صادق فتح، بارڈر ٹریڈ نمائندگان حاجی فداحسین دشتی، بہروز درازئی، حاجی نیاز شمبے زئی، حاجی اکبر زامرانی،پزیر بشیر، چیئرمین ندیم شمبے زئی، فضل بلوچ، شہزاد خان بلوچ، عبدالصبور بلوچ، ناصر زامرانی، ضیاء کریم، حاجی حاصل مندی، صابر تگرانی، مولانا محمد اکرم بلیدی، انجمن تاجران کے عقیل مراد، کیچ بار کے رہنما عبدالمجید دشتی ایڈووکیٹ سمیت دیگر نمائندگان، گاڑی مالکان، ڈرائیورز، خواتین کثیرتعداد میں موجودتھے۔
انہوں نے مطالبہ کیاکہ عبدوئی بارڈر کو فوری طورپر کھولا جائے اورپرانے فعال کراسنگ پوائنٹ سے تیل کی نقل وحمل کی اجازت بحال کی جائے، جھوٹے بہانوں اور وقتی تسلیوں سے گریز کیاجائے، بارڈر پر پہلے سے جو سرحدی باڑ لگایا گیاتھا اس باڑ کے ہوتے ہوئے نیا باڑ لگانا روزگار پر بندش ہے دوسری باڑ کی وجہ سے ایرانی گاڑیاں نہیں آتے، یہ نئی باڑ تیل کے کاروبار میں رکاوٹ کاباعث ہے اس نئی باڑ کا خاتمہ کیاجائے کیونکہ ایرانی ڈرائیوروں نے اس باڑ کو بھتہ خوری، زبردستی لوڈنگ اور تذلیل قرار دیکر سپلائی بند کردی یوں عید سے قبل بلیدہ زامران کی تمام زمیادگاڑیاں خالی واپس لوٹنے پرمجبورہوئیں جس سے غریب گاڑی والوں کا بہت نقصان ہوا۔
انہوں نے کہاکہ دیگر اضلاع سے متصل بارڈر پوائنٹ کھول دئیے گئے ہیں مگر کیچ سے متصل کراسنگ پوائنٹ عبدوئی بارڈر 4مہینوں سے بند ہے، 16مارچ کو عبدوئی بارڈر عارضی طورپر بند کرنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جسے بعدازاں غیرمعینہ مدت کیلئے بڑھایا گیا، ضلعی انتظامیہ اور عسکری حکام سے متعدد رابطوں کے دوران صرف اتنا کہاگیا کہ سیکورٹی وجوہات کی بناء بارڈر بند کیا گیا ہے جسے جلد کھول دیاجائے گا مگر تاحال اس حوالے سے مثبت پیش رفت نظرنہیں آتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ظالمانہ بارڈر بندش نے ہزاروں خاندانوں کو فاقہ کشی پرمجبورکردیا ہے، غربت، بے روزگاری، بدامنی، چوری ڈکیتی، تعلیمی نظام کی تباہی، علاج معالجہ میں رکاوٹ جیسے سنگین سماجی ومعاشی مسائل نے جنم لیا ہے، ہم گزشتہ4دنوں سے تربت کی جھلسا دینے والی گرمی میں پرامن احتجاجی دھرنا دئیے بیٹھے ہیں ہمیں راہ گیروں، ٹرانسپورٹروں اور عام شہریوں کی مشکلات وپریشانیوں کا مکمل ادراک ہے مگر معاشی قتل کے خلاف آواز اٹھانا ہماری مجبوری بن چکی ہے۔
آل پارٹیز کیچ کے کنوینر نواب شمبے زئی نے پریس کانفرنس میں اس احتجاجی دھرنا کو کیچ کے عوام کا دھرنا قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ دھرنا چند ڈرائیوروں یا گاڑی والوں کانہیں بلکہ کیچ کے عوام کا دھرنا ہے یہ دھرنا بارڈر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی پارٹیاں، انجمن تاجران، بارایسوسی ایشن، پریس کلب، سول سوسائٹیز سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی دھرنا ہے، بارڈر کھلنے تک عوام کا احتجاج منظم اوربھرپور انداز میں جاری رہے گا آل پارٹیز اس دھرنا اور احتجاج کو اپنا دھرنا سمجھتی ہے، یہ دھرنا مجبوری میں دیاجارہاہے اس لئے عوام بالخصوص تحصیل دشت کے عوام کو ہونے والی پریشانیوں پر ان سے معذرت خواہ ہیں۔
کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید مجید شاہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ بارڈر ہونے والی کاروبار غیرقانونی نہیں ہوتی، دنیا بھر میں سرحدی تجارت قانونی ہے مگر مکران ڈویژن اور رخشان ڈویژن میں اسے اسمگلنگ قرار دیکر بارڈر کاروبار پرقدغنیں عائدکردی گئی ہیں اور عوام کے ذریعہ معاش کو بند کردیا گیا، کیچ کے وکلاء اس احتجاج میں نہ صرف ساتھ رہیں گے بلکہ صف اول میں رہیں گے۔
انجمن تاجران کیچ کے سابق صدر حاجی کریم بخش نے کہاکہ عوامی مفاد میں ہونے والی اس احتجاجی دھرنا کی انجمن تاجران مکمل حمایت کرتی ہے اور اس دھرنا کی کامیابی تک اس احتجاج کا حصہ رہے گی۔
بارڈر نمائندگان فضل بلوچ، شہزاد خان بلوچ، ناصر زامرانی، عبدالصبور ودیگر نے کہاکہ ون پوائنٹ ایجنڈا بارڈر بحالی کیلئے احتجاجی تحریک کو کامیابی سے ہمکنارکرنے کیلئے ہم معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار اداکرنے کی اپیل کرتے ہیں کیونکہ بارڈر سے ہرشخص اورہرگھر بلاواسطہ یا بالواسطہ متاثرہے، غریبوں کے ذریعہ معاشی کی بحالی اورنئی باڑ کے خاتمہ تک جدوجہد جاری رہے گی۔