کردگاپ وکوئٹہ سے 3 نوجوان فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے کردگاپ اور کوئٹہ سے پاکستانی فورسز لشکر کشی کے داوران 3 افراد کو حراست میں لیکرجبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

کردگاپ کے علاقے گرگینہ میں فورسز نے لشکر کشی کے دوران 2 افراد حراست میں لیکر جبری لاپتہ کر دیا۔

اطلاعات ہیں کہ فورسز کردگاپ گرگینہ کے علاقوں درنجن، پتکی ،مل سرپرہ، شپچ اور بیزنی میں دو دنوں سے لشکر کشی کررہے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ پتکی سے اورنگرزیب ولد غلام حیدر سرپرہ اور سلطان ولد موسیٰ خان سرپرہ نامی 2 افراد کو گرفتار کر کے جبری لاپتہ کر دیاگیاہے۔

کہا جارہا ہے کہ لاپتہ کئے جانے والے افراد پیشے سے لحاظ سے دوکاندار ہیں، جب کہ سربند سے ایک شخص کو گرفتاری کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

دوسری جانب بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں طالب علم غلام علی کوفورسز نے جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

اہل خانہ کے مطابق، 22 جون کو مستونگ کلی دتو سے تعلق رکھنے والے طالبعلم غلام علی بلوچ ولد عبدالحکیم کو فورسز نے کوئٹہ جناح ٹاؤن میں انکے رشتہ دار عبدالنبی ساسولی کے گھر سے ماورائے قانون حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے غلام علی کی گرفتاری کے بعد سے اب تک ان کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے غلام علی کی جبری گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا، کہ وہ بلوچ طالب علم کی ماورائے قانون گرفتاری کا نوٹس لیں، اور انکے خاندان کو ملکی قوانین کے تحت فوری انصاف فراہم کرنے میں اپنی آئینی کردار ادا کریں۔

Share This Article