بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کا احتجاجی کیمپ سالوں سے جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر تربت میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ 5861دنوں سے جاری ہے۔

کراچی ملیر سے سیاسی سماجی کارکنان نوربخش بلوچ،گزین بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکرلواحقین سے اظہار یکجہتی کی ۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماماقدیر بلوچ نے کہاکہ پاکستانی فوج بہت سے بلوچ مخبر میر و معتبروں کی مددسے بلوچ سیاسی تنظیموں کےلیڈروں کارکناں کوجبری اغواکرکے ان کو اذیت دینےکے بعد ان کو شہید کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکتی رہی ہے جوکہ ان کو پاکستانی فوج خفیہ اداروں کو سستاپڑرہاہے یعنی فوجی ساز و سامان تیل جھاز اور دیگر مشینری کے کم استعمال سے یہ کام انجام دیاجارہاہے اسی لیئے پاکستانی فوج آپریشن سے زیادہ ٹارگیٹڈ ایکشن یعنی اُٹھاؤ مارو پھینکو پر گامزن رہی ہے اور دوسری وجہ یہی کہ بڑی آپریشن کی صورت میں شاید عالمی برادری پاکستان پر اعتراض کرے ۔

ماما قدیربلوچ نے مزید کہاکہ مکران کے علاوہ بلیدہ زامران،تمپ،بالگتر، ہوشاپ،پسنی،آواران اور مشکے میں فورسز کے چھاپے آپریشن اور پھر ہیلی کاپٹروں سے بمباری بلوچوں کوشہید اور ناجائز جبری لاپتہ کرنے کے واقعات ہوں، ریاستی فورسز فل چھوٹ اور دیدہ دلیری سے بلوچوں کے خلاف محاذ کھول چکی ہیں۔ ہرنائی چمالنگ بہلول اور چاب میں بلوچوں کے خلاف زمینی اور فضائی آپریشن شروع کیاہے ادھرقلات کے گردنواح میں حالیہ دس (10) روزسے F.16 جھاز چینی ساختہ جھاز میزائل استعمال کررہاہے اور جہاں تک بلوچستان کی بات ہے تو بلوچستان کی تحریک اور بلوچ قوم کے سیاسی معاشی عدل انصاف پر مبنی نظام ہزاروں بلوچوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں جبکہ ہزاروں ریاستی اداروں کے اذیت گاہوں میں پابند سلاسل رکھے گئے ہیں ،پوری دنیا اور اقوام کو اب ایک نئے نظام کی ضرورت ہے۔

Share This Article