ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد دُنیا کے مختلف مُمالک اور عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ’برقرار رہنی چاہئے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ مشرق وسطیٰ میں یہ امر انتہائی ضروری ہے کے استحکام کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور اب انھیں مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے اور دیرپا تصفیے کے لیے کام کرنا چاہیے۔‘
دوسری جانب اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ وہ ایران کی صورتحال کے بارے میں آج کے اعلانات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ’آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کی بحالی ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق تنازع کو حتمی طور پر حل کرنے کے لئے ایک کامیاب سفارتی معاہدے کی کلید ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دینے اور جلد ملاقات کی تجویز دینے کے لئے لکھا ہے۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع سے متعلق راتوں رات ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جس میں ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف امریکی کارروائی اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف ایرانی جوابی کارروائی شامل ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگرچہ ہمیں مجموعی اور پائیدار علاقائی سلامتی اور استحکام کے امکانات پر گہری تشویش ہے، ہم ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی اطلاعات اور اس کے نفاذ میں امریکہ اور قطر کے کردار کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیا ہے۔
قوم سے خطاب میں انھوں نے کہا ہے کہ ’یہ فتح کئی نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔ ہم نے اپنی بقا کو درپیش دو فوری خطرات کا خاتمہ کیا، ایک جوہری خطرہ اور دوسرا بیلسٹک میزائلوں کا خطرہ۔ اگر ہم نے کارروائی نہ کی ہوتی تو ہمیں اپنی تباہی کا خطرہ درپیش ہوتا۔‘
نتن یاہو کا کہنا ہے کہ آئی ڈی ایف نے ’ایران کی سینیئر کمانڈ کو ختم کر دیا‘ جن میں تین چیفس آف سٹاف، جوہری سائنسدان اور اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔
وزیرِ اعظم کے مطابق اسرائیلی حملے کے دوران اصفہان، نطنز اور اراک میں موجود جوہری تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔
انھوں نے اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ کی اس مہم میں شمولیت کا اعتراف بھی کیا اور کہا کہ ’ہمار دوست صدر ٹرمپ ہمارے ساتھ اس طرح کھڑے جیسے آج سے پہلے کوئی نہیں ہوا، ان کے احکامات پر امریکی فوج نے فردو میں موجود زیرِ زمین یورینیم افزودگی کی تنصیب کو نشانہ بنایا۔‘