منگچرسے ایک نوجوان جبری لاپتہ، کوئٹہ سے لاپتہ نوجوان بازیابی بعد چل بسا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے منگچرسے پاکستانی فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ کوئٹہ سے فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ایک نوجوان بازیابی کے بعد بعد چل بسا۔

منگچر سے فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ہے ۔

لاپتہ کئے جانے والے نوجوان کی شناخت سیف اللہ ولد رحیم داد محمد شئی کے نام سے ہوگئی ہے جسے رواں سال 11 جون کو منگچر بازار سے جبری لاپتہ کر دیا گیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق سیف اللہ میکینک شاپ پر کام کرتا تھا، جہاں سے اسے جبری لاپتہ کیا گیا۔

دوسری جانب فورسز کی حراست سے رہائی کے فوراً بعد ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق شاہ زیب کو دورانِ حراست بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے اثرات اتنے شدید تھے کہ رہائی کے بعد وہ چند ہی گھنٹوں میں دم توڑ گیا۔

شاہ زیب احمد ولد شریف احمد، سکنہ کلی قمبرانی، کوئٹہ، عیدالاضحیٰ کے چوتھے روز اپنے دو پڑوسیوں کے ہمراہ منگچر ڈیم کے قریب پکنک منانے گیا تھا۔ واپسی پر رات کے وقت ان کی موٹر سائیکل خراب ہو گئی، جس کے بعد پاکستانی فورسز نے تینوں نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران نوجوانوں پر انسانیت سوز تشدد کیا گیا۔ شاہ زیب کے جسم پر جلنے کے نشانات، ٹوٹے ہوئے بازو، اکھڑے ہوئے ناخن اور سوجا ہوا چہرہ اس اذیت کی گواہی دے رہا تھا۔

ان کے مطابق پگھلا ہوا پلاسٹک جسم پر ٹپکایا گیا، ابلتا پانی منہ میں ڈالا گیا اور خوراک کے نام پر صرف تربوز دیا جاتا رہا۔

شاہ زیب کو رہائی کے بعد فوری طور پر ایک دوست کے ہمراہ اسپتال لے جایا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئےہلاک ہو گیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق شاہ زیب نے مرتے وقت کہا “کافر بھی جنگ میں انسانوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے۔”

حراست میں لیے گئے تین نوجوانوں میں سے ایک تاحال لاپتہ ہے، جس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکی ہیں، جبکہ دوسرے کی حالت بھی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

Share This Article