ریاست جموں کشمیر کے 4 ہزار مربع میل پر جو پاکستان کے زیرِ قبضہ ہے گزشتہ دنوں چین اور حکومتِ پاکستان کے درمیان 2.4 بلین ڈالر کا بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ طے پایاہے۔یہ منصوبہ کوہالہ پاور پراجیکٹ کے نام سے منصوب ہے۔
پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں کشمیر میں آزاد کشمیر گورنمنٹ کے نام سے ایک حکومت موجود ہے۔ گو کہ قابض کی کٹھ پتلی حکومتوں کو عوام کی نمائندہ حکومت نہیں کہاجاسکتا اور نہ ہی تسلیم کیا جا سکتاہے لیکن اگر 4000 مربع میل پر کسی بھی قسم کے منصوبے کا بنیاد رکھا جاتا ہے تو اس پر اختیار اور کنٹرول کا حق بنیادی طور پر اسی حکومت یعنی ریاست جموں کشمیرکا بنتا ہے۔اور اس بنیاد پر اگر کوئی ملک،ریاست جموں کشمیرکے ساتھ معاہدہ کرتا ہے تو وہ قابض پاکستان کی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ نام نہاد آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
کتنی شرمناک بات ہے کہ پاکستانی ریاست، حکمران اوراس کے عوام اسے آزاد کشمیر کے نام سے پکارتے ہیں اور دنیا کو بے وقوف بناتے ہیں کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیرآزاد ہے،عوام کو حق حکمرانی حاصل ہے جبکہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ آزادکشمیر کے نام سے مشہور ریاست جموں کشمیر کا حصہ بالکل آزاد نہیں ہے بلکہ مکمل مقبوضہ ہے۔
چین و پاکستان مابین 2.4 بلین ڈالر بجلی منصوبے کا معاہدہ سمیت دیگر تمام میگا پراجیکٹس کو لیکر حکومت
AJK
کا کردار محض قابض پاکستان کے حکمران طبقات کی ریاستی وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں سہولت کاری کرنا ہے۔ریاست کی تقسیم سے لیکر آج تک یہ گماشتہ حکمران نسل در نسل سہولت کاری اور چاپلوسی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ریاست کے وسائل پر عوام کا حق اور اختیار بنتا ہے،ایسے تمام میگا پراجیکٹ عوام کی ملکیت ہیں،لیکن المیہ یہ ہے کہ قابض ریاست کے حکمران طبقہ کے قبضہ گیری میں توسیع پسندانہ عزائم کو تقویت دیکر گماشتہ حکمران اپنی نسلوں کی عیاشیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔
اس چاپلوسی اور سہولت کاری کے بدلے قابض ریاست کے بالادست طبقات ان کو عوام پر حکمرانی دیتے ہیں۔منگلا ڈیم سے لیکر ہولاڑ ڈیم،نیلم جہلم ہائیڈیل پاور پراجیکٹ اور اب کوہالہ پاور پراجیکٹ ان سب کے انتظامی اور مالیاتی کنٹرول قابض ریاست کے بالادست اور حکمران طبقے کے پاس ہے یعنی جی ایچ کیو(جنرل ہیڈ کوارٹر) کے پاس ہے۔
ان پراجیکٹس پر عمل کرتے ہوئے عوام کی زمینوں،غربت،صحت وغیرہ کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔پہلے سے تباہ و برباد لوگ مزید ذلت و رسوائی اوربیچارگی کا شکار ہوتے ہیں۔سب کچھ کھونے کے بعد بھی ان کا کوئی اختیار نہیں رہتا۔ہمارا غلامانہ سماج میں قابض نے لوٹ کھسوٹ کی نئی شکلوں کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔
اسٹیٹ سبجیکٹ جو عوام کی ملکیت کو تحفظ دیتا ہے ایسے منصوبوں کے ذریعے اسٹیٹ سبجیکٹ کو سبوتاژکیا جا رہا ہے،اس پورے عمل میں حکومت سمیت تمام روایتی سیاسی پارٹیوں کی قیادت خاموش ہے چونکہ ان سب کا کام چاپلوسی اور سہولت کاری ہے۔ان حالات میں عوام کو اور بالخصوص نوجوانوں کو وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف مزاحمت کرنا ہو گی۔ریاستی وسائل پر عوامی اختیار اور کنٹرول کی مانگ کرنا ہو گی۔
اپنے وسائل کو بچانے کے لیے منظم ہونا ہو گا،ترقی پسند اور نیشنلسٹ تنظیموں کو واضح اور ٹھوس مزمتی پالیسی سامنے لانا ہو گی،جس پرتمام محب وطن اور عوام دوست قوتوں کو منظم کیا جا سکے۔جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی نے مزمتی اور احتجاجی مہم کا آغاز کیا ہے۔نوجوان اس مہم کو لیکر عوام کے اندر مباحثہ بنائیں۔سوالات اٹھائیں،عوام کو موبلائز کریں چونکہ اگر آج ہم نے یہ نہیں کیا تو آنے والا کل ہمیں یہ وقت نہیں دے گا،پانی سر سے گزر جائے گا جو تباہی و بربادی چھوڑ جاے گا اور سب کچھ بہا کرلے جائے گا۔