بلوچستان اسمبلی میں جبری گمشدگیوں کو قانونی حیثیت دینے کا بل منظور

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان اسمبلی میں پاکستانی فوج کی دو دہائیوں سے زائد جبری گمشدگیوں کی غیر آئینی و غیر انسانی کارروائیوں کو قانونی حیثیت دینے کا بل منظور کرلیا گیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں” انسداد دہشت گردی کے ترمیمی مسودہ قانون ” نامی بل پر بحث ہوئی اور اسے منظور کر لیا گیا ہے جس سے اب جبری گمشدگیوں کو باقاعدہ طور پرقانونی حیثیت دیدی گئی ہے۔

” انسداد دہشت گردی کے ترمیمی مسودہ قانون ” نامی بل بلوچستان اسمبلی میں  پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت میں منظور کرلیاگیا ہے، جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی شہری کو بغیر عدالت میں پیش کیے تین ماہ تک حراست میں رکھ کر تفتیش کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

یہ قانون، جسے انسداد دہشتگردی (بلوچستان ترمیمی) بل 2025کہا جا رہا ہے، انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اس کے تحت حکومت یا مجاز ادارے جیسے کہ پاکستانی فورسز، خفیہ ادارے اور پولیس کسی بھی شخص کو شک کے بنیاد پر تین ماہ تک حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

بل کے مطابق اگر حراست کا حکم مسلح افواج یا سویلین مسلح افواج کی جانب سے جاری کیا جائے تو تحقیقات ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کرے گی جس میں پولیس، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران شامل ہوں گے۔

اس قانون کے مطابق تین ماہ کی ابتدائی حراست کے بعد مزید توسیع آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت ممکن ہوگی، جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

اجلاس میں رکن اسمبلی شاہدہ رؤف نے مطالبہ کیا کہ ترمیمی قانون کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ عسکریت پسندی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے اور کچھ عناصر ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کر کے انہیں حراستی مراکز میں رکھا جائے گا اور ان کی بحالی پر بھی کام کیا جائے گا۔

سرفراز بگٹی نے مسنگ پرسنز کے مسئلے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا، اور اگر اب بھی کوئی شخص لاپتا ہے تو وہ خود سے غائب تصور ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست پر الزام لگانا آسان ہے لیکن ریاست کو مضبوط اقدام بھی اٹھانے ہوں گے۔

قانون کی منظوری کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں نے اس پر شدید تنقید کی ہے، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس قانون کو شہریوں کے بنیادی حقوق، جیسے کہ منصفانہ سماعت اور قانونی عمل، کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سینیٹر جان محمد بلیدی نے پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون بلوچستان میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور بلوچستان کو پولیس اسٹیٹ بنانے کا خدشہ ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور بلوچستان میں پہلے سے موجود مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

بلوچستان حکومت کی جانب سے نافذ کردہ یہ قانون آئندہ چھ سال تک بلوچستان میں نافذ العمل رہے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article