بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز نیچاری کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 5849 واں روز جاری رہا، بی ایس او کے سابقہ چیرمین مہیم خان بلوچ اور دیگر نے احتجاجی کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ تنظیم کو شکایت موصول ہوئی ہے کہ گزشتہ روز قلات کے علاقے شیخڑی، گندہ گین سے برآمد ہونے والے لاشوں کی شناخت پہلےسے جبری لاپتہ سمیع اللہ ولد محمد حنیف اور بسم اللہ ولد غلام سرور کی ناموں سے ہوئی ہے، جو مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد کے رہائشی ہے۔
جنہیں 29 مئی کو مستونگ سے قلات کے علاقے منگچر کی جانب سفر کے دوران سیکورٹی فورسز “ایف سی” حراست بعد اپنے ہمراہ لے گئے تھے، اور انہیں گزشتہ روز دوران حراست ماورائے قانون قتل کیا، اور انکی لاشیں قلات سے برآمد ہوئے، جو باعث تشویش ہے جسکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قلات میں جبری لاپتہ افراد کے ماورائے قانون قتل کا نوٹس لیں اور تحقیقات کرکے اصل حقائق عوام کے سامنے لائیں۔