بلوچستان میں پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی اپنی جنگی جرائم کی کارروائیوں کو مزید تیز کردیا ہے ۔
گذشہ روزپنجگور، تربت اور پسنی سے فورسزنے مزید 7 افرادکو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جن کا اب کوئی خبر نہیں ہے ۔
ضلع پنجگور مرکزی بازار چتکان میں سکیورٹی فورسز نے ایک موبائل کی دکان پر چھاپہ مار کر کم از کم 5 افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
لاپتہ افراد میں پنجگور کے معروف نوجوان تاجر، واھاب بلوچ بھی شامل ہیں۔
واقعہ 28 مئی کو وقت پیش آیا جب فورسز نے پنجگور کے علاقے چتکان کے مین بازار میں واقع موبائل دوکان پر دھاوا بولا۔
عینی شاہدین کے مطابق، واھاب بلوچ کو 4 دیگر افراد کے ہمراہ حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
حراست میں لیے گئے دیگر افراد کے نام تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔
ذرائع کے مطابق چھاپے کے وقت فورسز نے دکان میں توڑ پھوڑ بھی کی ہے جبکہ متعدد قیمتی موبائل بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں جنکی قیمت لاکھوں میں ہیں۔
اسی طرح ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے بھی سے ایک شخص کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
جبری لاپتہ کئے گئے شخص کی شناخت عدنان طاہر ولد طاہر کے نام سے ہوگئی ہے ۔
ذرائع کے مطابق فورسز نے سنگانی سر کے رہائشی اور محکمہ پولیس کے ملازم عدنان طاہر کوگذشتہ روز جمعہ صبح 9 بج کر 45 منٹ پر تربت کے علاقے سنگانی سر سے جبری طور پر لاپتہ کیاگیا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق عدنان طاہر کا تعلق سنگانی سر سے ہے اور وہ قابض پاکستانی پولیس میں ملازم تھے۔ جب وہ ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ راستے میں فورسز نے انہیں زبردستی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
عدنان طاہر کے اہلخانہ اور اہلِ علاقہ نے ان کی بازیابی کے لیے کل 31 مئی کو صبح 10 بجے ڈپٹی کمشنر آفس تربت کے سامنے احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا ساحلی شہر پسنی سے بھی محمد ولد نبی بخش نامی ایک نوجوان کی گجبری گمشدگی رپورٹ ہوئی ہے۔
اس سلسلے میں جماعت اسلامی بلوچستان کے صدر اور بلوچستان اسمبلی کے رکن مولانا ہدایت الرحمان نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ پسنی میں میرے کزن کے بیٹے محمد ولد نبی بخش کو اٹھایا گیا ہے، آخر طاقت ور لوگ کیا چاہتے ہیں؟