تربت : پولیس اہلکار کی جبری گمشدگی کے خلاف سی پیک شاہراہ 3 دنوں سے بند

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں پولیس اہلکار کی جبری گمشدگی کے خلاف تین دنوں سے سی پیک شاہراہ سمیت تمام لنک روڈ بلاک، ویم ایٹ شاہراہ پر خواتین کا دھرنا جاری، سیکڑوں گاڑیاں اور مسافر پھنس گئے۔

خواتین پر مشتمل مشتعل مظاہرین نے عومری کھن کے مقام پر سی پیک شاہراہ ایم ایٹ شاہراہ کو بلاک کرکے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کررکھا ہے۔

دو دنوں سے خواتین اور بچوں پر مشتمل مظاہرین سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیے تربت سے لاپتہ کیے گئے پولیس اہلکار غلام محمد کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مظاہرین کے مطابق پولیس اہلکار غلام محمد کو تربت میں سیکیورٹی اداروں نے ڈیوٹی سے واپس آتے ہوئے ڈگری کالج تُربَت کے سامنے جبری لاپتہ کیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں ان کے بارے میں اہل خانہ کو کوئی معلومات نہیں دی جارہی ہے۔

جمعرات کو احتجاج کے دوسرے دن مشتعل مظاہرین نے کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کو جنہیں گاڑیوں نے راستے میں ہی چھوڑا پیدل آنے سے بھی روکنے کی کوشش کی اور بعض افراد کے ساتھ ہاتھاپائی تک کی۔

دو دنوں سے مسلسل شاہراہ کی بندش کے نتیجے میں دونوں اطراف درجنوں گاڑیاں اور سیکڑوں مسافر پھنس گئے ہیں، سماجی تنظیموں نے ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر کیچ سے مظاہرین کے ساتھ مزاکرات کرکے شاہراہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Share This Article