بلوچستان کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر اسکولز کے اکاونٹس میں 2017-22کے دوران چھ ارب چالیس کروڑ روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آگئیں ،پانچ برسوں میں 90لاکھ کتب طلبا میں تقسیم ہی نہیں کی گئیں۔
بغیر منظوری کے کتابوں کی چھپائی کی مد میں دو ارب 59کروڑ 61لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی ایک ارب 11کروڑ 48لاکھ روپے کا رکارڈ آڈ ٹ ٹیم کو مہیا ہی نہیں کیا گیا۔
بلوچستان اسمبلی میں پیش ہونے والی آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سال 2017-22کے دوران36کروڑ 20لاکھ روپے کا فنڈ استعمال ہی نہیں کیا گیا جبکہ 30کروڑ 14لاکھ روپے کی رقم بے قاعدہ طور پر رکھی گئی ، 11کروڑ 63لاکھ روپے کی رقم کی ڈی ڈی اوز کے ذریعے بے قاعدہ طور پر ادائیگی کی گئی۔ای ایم آئی ایس منصوبے میں سست روی سے 42کروڑ 26لاکھ استعمال نہیں ہوا ۔
رپورٹ میں قواعد وضوبط اور ٹینڈر کے عمل کے بغیر خریداری سے ایک ارب 83کروڑ کا نقصان کی نشاندھی کی گئی ہے سرکاری گاڑیوں کیلئے بغیر اوپن ٹینڈر کے ایک کروڑ 14لاکھ روپے کی پرتعیش اشیا کی خریداری کی گئیں۔
گھوسٹ اسکولز کے نام پر ایک کروڑ 17لاکھ روپے کی بغیر ٹینڈر خریداری کی گئی بغیر تخمینہ اور ٹینڈر ٹرانسپورٹ حاصل کرکے 26 کروڑ خرچ کردئیے گئے۔
آڈٹ رپورٹ میں درسی کتب کی چھپائی میں دو ارب 59کروڑ 61لاکھ روپے کی منظوری کے بغیر ادائیگی کی نشاندھی سامنے آئی ہے۔
ٹرانسپورٹ کی مرمت اور فیول کی مد میں دو کروڑ 33لاکھ کے بے قاعدگیاں آڈٹ رپورٹ کاحصہ ہیں ۔ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن میں منظور شدہ اسامیوں سے 366 اضافی عملے کی تعیناتی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔