ساری زندگی جیل میں گزار لوں گا لیکن ظلم کے سامنے نہیں جھکوں گا،عمران خان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ ’مُجھے اس بات کا علم ہے کہ کون وکٹ کی دونوں جانب کھیل رہا ہے، میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن ظلم کے سامنے نہیں جھکوں گا۔‘

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں وکلا اور صحافیوں سے گفتگو سے متعلق سابق وزیراعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں اُن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا، پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔‘

اُن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ’قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔‘

بانی پی ٹی آئی کا ایکس پر جاری بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔ پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اُن سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آئے ہیں یا 45 سے۔‘

سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہے سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے۔‘

Share This Article