بلوچستان کے ضلع آوار ان کے علاقے مشکے میں ریاستی فورسز کے ہاتھوں صحافی لطیف بلوچ کے بہیمانہ قتل کے خلاف صحافتی تنظیمیں شدید ردعمل کا اظہار کر رہی ہیں۔
لطیف بلوچ کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے آج شب تین 24 کو جو باقاعدہ وردی میں ملبوس تھے نے گھر میں گھس اہلخانہ کے سامنے سوئے ہوئے لطیف بلوچ کو فائرنگ کرکے قتل کردیاتھا۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس کی مجلس عاملہ نے آواران بلوچستان میں روزنامہ انتخاب کے نمائندے لطیف بلوچ کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شیہد کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے ۔
صدر طاہر حسن خان نے کہا کہ بلوچستان ایک عرصہ سے صحافیوں کے لئے خطرناک علاقہ بنا ہوا ہے ۔ آزادی اظہار رائے جرم تصور کیا جاتا ہے ، لگتا ہے حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔
جنرل سیکرٹری سردار لیاقت نے کہا ہے کہ ماضی میں بھی صحافیوں کو حق کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں ریاستی اور غیر ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا ہنوز یہ سلسلہ جاری ھے جیسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔
اراکین مجلس عاملہ نے لطیف بلوچ کو گھر میں گھس کر شہید کرنے کے واقعے کو بلوچستان حکومت کی نااہلی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور بلوچستان کے صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
اسی طرح بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے آواران کے مقامی صحافی، لطیف بلوچ کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں تنظیم کا کہنا تھا کہ لطیف بلوچ کو مسلح افراد نے رات گئے ان کے گھر میں اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا جب وہ سو رہے تھے اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
بی یو جے کے صدر خلیل احمد اور جنرل سیکرٹری عبدالغنی کاکڑ نے المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مقتول کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہارکیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لطیف بلوچ ایک فرض شناس اور دیانت دار صحافی تھے ان کا قتل آزاد آوازوں کو دبانے کی جاری سازشوں کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بی یوجے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں صحافی پہلے ہی شدید خطرات سے دوچار ہیں، اور ایسے واقعات ان کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو یہ رجحان مزید خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔
بی یو جے نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان حکومت لطیف بلوچ کے قتل میں ملوث ملزمان کو فی الفورگرفتارکر کے انصاف کے تقاضے پورے کرے۔
دریں اثنا پسنی پریس کلب کے ترجمان نےاپنے ایک جاری مذمتی بیان میں بلوچستان کے سینئر صحافی لطیف بلوچ کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ لطیف بلوچ جو کہ مشکے، آواران سے تعلق رکھنے والے ایک بے باک اور ایماندار صحافی تھے، کو گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف صحافتی برادری کے لیے ایک عظیم نقصان ہے بلکہ آزادیِ صحافت پر ایک سنگین حملہ ہے۔
ترجمان نے حکام سے مطالبہ کرتےہوئے کہاکہ اس سفاکانہ قتل کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے بیان میں کہا گیا کہ صحافیوں کا تحفظ یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہےاور ہم وفاقی و صوبائی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ صحافیوں کے لیے فوری حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ وہ بغیر خوف اور ڈر کے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
ترجمان نے مذید کہاکہ بلوچستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات کو کم کرنے کے لیے خصوصی قانون سازی اور سیکیورٹی پروٹوکولز کا نفاذ ناگزیر ہے۔صحافیوں کو آئے روز خطرات کا سامنا ہے اورانہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔صحافتی برادری اس مشکل وقت میں متحدہونے کی ضرورت ہے اور ہم آزادیِ صحافت کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
علاوہ ازیں تربت پریس کلب کے ترجمان نے اپنے مذمتی بیان میں آواران کے سنیئر صحافی اور روزنامہ انتخاب کے نمائندہ لطیف بلوچ کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ لطیف بلوچ کو گھر میں گھس کر نیند کی حالت میں شہید کیاگیا جو ا نتہائی بزدلانہ اورسفاکانہ عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہاکہ لطیف بلوچ نے آواران جیسے حساس علاقے میں اپنے قلم کے ذریعے عوامی مسائل اجاگرکرتے ہوئے عوام کی ترجمانی ہے، لطیف بلوچ کی شہادت سے صحافی برادری میں شدید بے چینی اورتشویش پائی جاتی ہے، حکومت لطیف بلوچ کی شہادت کو نوٹس لیکر اس واقعہ میں ملوث عناصر کا کھوج لگاکر ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کرے اور ان کی فیملی کو جلد انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔
انہوں نے کہاکہ لطیف بلوچ اپنی بے باکانہ اور غیرجانبدارانہ صحافت کی وجہ سے اپنا ایک مقام بناچکے تھے گوکہ ان کی شہادت کی نہ صرف بلوچستان کی صحافتی تنظیمیں بلکہ ملک بھر سے صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں کی جانب سے مذمت کی جارہی ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے صحافتی تنظیمیں بلوچستان میں صحافیوں کے تحفظ کیلئے موثر آواز اٹھائیں۔