مستونگ : جبری گمشدگیوں کیخلاف شاہراہیں بلاک ، بازیابی تک دھرنا جاری رہے گا ، لواحقین

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں صفی اللہ شاہوانی اور عابد حسین نامی 2 نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کے فیملی نے دو مختلف مقامات کڈھ کوچہ اور شہید غلام علی چوک کے مقام پر شاہراہوں پر دھرنا دیکر ہر قسم کی آمدوو رفت کے لئے بند کردیا ہے۔

صفی اللہ شاہوانی کی جبری گمشدگی کے خلاف کھڈ کوچہ کے مقام پر مظاہرین نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دھرنا دیکر آمد و رفت کیلئے بند کردیا۔

دوسری جانب عابد حسین ولد محمد زمان کی فیملی نے کوئٹہ ٹو کراچی شاہراہ کو شہید غلام علی چوک، نزد رحمان ہوٹل، مستونگ کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

عابد حسین کے فیملی دھرنا گاہ سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے سیاہ باب کا ایک تازہ اور المناک واقعہ پر شاہراہ کو بند رکھنے پر ہم مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں شاید ہی کوئی ایسا گھر بچا ہو جو ریاستی جبر، ایف سی و ایجنسیوں کے چھاپوں اور جبری گمشدگیوں کی اذیت سے محفوظ رہا ہو۔ روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی ضلع سے نوجوانوں کو لاپتہ کرنا اب معمول بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی ظلم کی ایک اور مثال آج صبح فجر کے وقت سامنے آئی، جب ایف سی اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے کلی دتو، مستونگ میں ہمارے گھر پر چوروں اور بدمعاشوں کی طرح دھاوا بول دیا۔ اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھر کی مکمل تلاشی لی، مگر کچھ برآمد نہ ہونے کے باوجود تمام موبائل فون قبضے میں لے لیے۔ اس کے بعد میرے بھائی عابد حسین ولد محمد زمان اور دوسرے بھائی کو زبردستی گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے۔ راستے میں ایک بھائی کو چھوڑ دیا گیا، لیکن عابد حسین بلوچ کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ اب تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ریاست سے سوال کرتے ہیں کہ اگر عابد حسین پر کوئی الزام تھا، تو انہیں قانون کے مطابق دن دیہاڑے گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ وہ پورا دن بازار میں موجود تھے۔ پھر کیوں رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح ہمارے گھر میں گھس کر انہیں اٹھایا گیا؟ کیا یہی انصاف ہے؟

ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جب تک عابد حسین بلوچ کو رہا نہیں کیا جاتا، ہم سڑک پر دھرنا جاری رکھیں گے۔ ہمارے بھائی کو صحیح سلامت گھر سے اٹھایا گیا، اور ہمیں وہی صحیح سلامت واپس چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے، اور ہم اپنے اس حق کے لیے پرامن مگر پرعزم احتجاج جاری رکھیں گے۔

آخر میں انہوں نے بلوچ قوم، تمام انسان دوستوں، صحافیوں، اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں کیونکہ یہ صرف عابد حسین کا مسئلہ نہیں، بلکہ بلوچستان کے ہر اس فرد کی آواز ہے جو ظلم، جبر، اور ناانصافی کا شکار ہے۔

Share This Article