کوئٹہ کی عدالت نے 10 سالہ بچی کے اغوا سے متعلق کیس میں بلوچستان کے سابق وزیرداخلہ اور سینیٹر میر سرفراز بگٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
صوبائی دارالحکومت کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت نے میرسرفراز بگٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
خیال رہے گزشتہ روز سپریم کورٹ نے 10 سالہ بچی کے اغوا سے متعلق کیس میں سینیٹر سرفراز بگٹی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔
عدالت عظمیٰ کے ڈویڑن بینچ کی جانب سے اس کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا گیا تھا۔9 جولائی کو عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ بینچ کے رکن جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے تھے کہ ضمانت بنتی ہوگی تو دیں گے، سرفراز بگٹی کو 6 ماہ سے کسی نے گرفتار نہیں کیا اب کون گرفتار کرے گا۔
اس موقع پر جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے تھے کہ سرفراز بگٹی با اثر شخص ہیں، کوشش کریں بچی مل جائے۔
واضح رہے کہ سرفراز بگٹی کے خلاف کوئٹہ کے بجلی گھر پولیس اسٹیشن میں یاسمین اختر نامی خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج ہے۔
یاسمین اختر کا مؤقف ہے کہ 7 دسمبر 2019 کو ان کی نواسی ماریہ علی کو اس کے والد توکل علی بگٹی سے ملوانے کے لیے کوئٹہ کی فیملی کورٹ لے کر گئی تھیں تاہم وہاں توکل علی نے ماریہ کو اغوا کر لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘توکل علی کا پیچھا کرنے پر پتا چلا کہ وہ ماریہ علی کو لے کر کینٹ میں واقع سرفراز بگٹی کے گھر لے کر گئے’۔
یاد رہے کہ 9 دسمبر کو سینیٹر سرفراز بگٹی کو اغوا کے کیس میں سیشن عدالت سے عبوری ضمانت مل گئی تھی۔
بعد ازاں 16 جنوری کو کوئٹہ کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 9 سالہ بچی کو زبردستی ساتھ رکھنے کے مقدمے میں سینیٹر سرفراز بگٹی کی عبوری درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔