بلوچستان کے علاقے پنجگور اور نوشکی سے پاکستانی فورسز نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبر ی طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ آواران سے ایک جبی لاپتہ نوجوان کی تشدد زدہ لاش برآمدہوئی ہے۔
بلوچستان کے ضلع پنجگور اور نوشکی سے دو افراد کے جبری گمشدگیوں کے کیسز سامنے آئے ہیں ۔
پنجگور سے لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت مہراللہ والد مقبول احمد سکنہ تسپ پنجگورکے نام سے ہوگئی ہے۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ مہراللہ کو فورسز نے رواں سال 18 مئی کو گھر سے اُٹھا کر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔
لواحقین نے کہا ہے کہ مہراللہ پیشے کے لحاظ سے مزدور ہے۔انہوں نے مہراللہ کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ۔
اسی طرح نوشکی سے اطلاع ہے کہ فورسز نے ایک نوجوان کو جبری لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت نوید جمالدینی ولد فیفا اکبر دوست جمالدینی کے نام سے ہوگئی ہے۔
لواحقین کے مطابق نوید کو 19 مئی شام 5:30 کو نوشکی کلی بدل کاریز کراس سے اسکے دوستوں کو دو چھوٹے گاڑیوں میں سول وردی میں ہینڈز اپ کرکے جبری طور پر لاپتہ کیا اور انھیں نوشکی کینٹ منتقل کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس وقت لاپتہ کیا گیا جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ سفر پر جارہے تھے۔
نوید جمالدینی کے دوستوں کو 3 گھنٹے کی اندر چھوڑ دیا گیا جب کہ نوید جمالدینی تاحال جبری لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
لواحقین نے انکی بازیابی کا مطالبہ کیا ۔
دوسری جانب ضلع آواران کے علاقے کولواہ گشانگ سے گزشتہ رات فورسز کی جارحیت کے دوران لاپتہ ہونے والے نوجوان ساجد ناصر کی تشدد زدہ لاش آج صبح مالار چیل کے مقام سے برآمد ہوئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ساجد کو فورسز اور ریاستی حمایت یافتہ “ڈیتھ اسکواڈ” نے ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔
متوفی ساجد ناصر مستری ناصر بلوچ کا بیٹا تھا، اور اس کی مسخ شدہ لاش آج صبح تشدد زدہ حالت میں برآمد ہوا ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل بھی اسی علاقے میں لیویز اہلکار یونس رسول کو فورسز نے ان کے گھر سے اٹھایا تھا جن کی لاش بعد ازاں دمب کے مقام پر پھینکی گئی۔
اس واقعے کے بعد پاکستانی فورسز نے یونس رسول کا تعلق بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے جوڑنے کی کوشش کی تھی تاہم بی ایل ایف نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا۔