حکومت پاکستان کا جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

حکومتِ پاکستان نے بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کے ساتھ ساتھ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بطور پاکستانی ایئرفورس کے سربراہ اپنی خدمات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق ان اہم فیصلوں کی منظوری آج وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران دی گئی ہے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت پاکستان کی جانب سے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شِکست فاش دینے پر جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی گئی ہے۔‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے قرار دیا کہ ’چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے مثالی جرات اور عزم کے ساتھ پاکستان فوج کی قیادت کی اور مسلح افواج کی جنگی حکمتِ عملی اور کاوشوں کو بھرپور طریقے سے ہم آہنگ کیا۔ اور آرمی چیف کی بے مثال قیادت کی بدولت پاکستان کو معرکہ حق میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اُن (عاصم منیر) کی شاندار عسکری قیادت، جرات، اور بہادری، پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے اور دشمن کے مقابلے میں دلیررانہ دفاع کے اعتراف میں، جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی وزیرِ اعظم کی تجویز کابینہ نے منظور کر لی ہے۔‘

اس ضمن میں وزیر اعظم آفس کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ ’وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے انھیں اس فیصلے کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔‘

بیان کے مطابق ’حکومت نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات کو جاری رکھنے کا بھی متفقہ فیصلہ بھی کیا ہے۔‘

وفاقی کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ افواج پاکستان کے افسران و جوان اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو آپریشن بنیان مرصوص کے دوران ان کی خدمات کے اعتراف میں اعلیٰ سرکاری ایورڈز سے نوازا جائے گا۔

وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں جنرل عاصم منیر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ فیلڈ مارشل کا عہدہ ملنے پر اللہ کے شکر گزار ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ’یہ اعزاز پوری قوم، افواجِ پاکستان، خاص کر سول اور ملٹری شہدا اور غازیوں کے نام وقف کرتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’صدر پاکستان، وزیرِ اعظم اور کابینہ کے اعتماد کا شکر گزار ہوں۔ یہ اعزاز قوم کی امانت ہے جس کو نبھانے کے لیے لاکھوں عاصم بھی قربان ہیں۔ یہ انفرادی نہیں بلکہ افواجِ پاکستان اور پوری قوم کے لیے اعزاز ہے۔‘

فیلڈ مارشل (Field Marshal) ایک اعلیٰ ترین فوجی عہدہ ہوتا ہے جو عام طور پر بری فوج میں دیا جاتا ہے۔ یہ عہدہ جنرل سے بھی اوپر ہوتا ہے اور اکثر اعزازی طور پر دیا جاتا ہے، خصوصاً اُن افسران کو جنہوں نے جنگوں میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں یا ملکی دفاع میں بڑا کردار ادا کیا ہو۔

یہ رینک پانچ ستاروں پر مشتمل ہوتا ہے اور کسی بھی فوجی افسر کو معمول کے ترقی کے عمل کے تحت نہیں دیا جاتا، بلکہ مخصوص عسکری یا قومی خدمات کے اعتراف میں حکومت کی منظوری سے عطا کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اب تک صرف دو شخصیات کو یہ عہدہ دیا گیا ہے جن میں جنرل محمد ایوب خان (1959) اور جنرل سید عاصم منیر (2025) شامل ہیں۔

یہ عہدہ کسی خاص کمان کی ذمہ داری کے ساتھ نہیں آتا بلکہ ایک اعزازی حیثیت رکھتا ہے، جو متعلقہ شخصیت کو تاحیات ایک معزز فوجی بزرگ کی حیثیت دیتا ہے۔

واضع رہے کہ پاکستان میں تمام عام الیکشن متنازع رہے ہیں لیکن 2024 ریکارڈ طور پر متنازع ثابت ہوا جہاں فوجی حکام نے عوام کی ووٹ کو دیدہ دلیری کے ساتھ چوری کرکے بلوچ قومپرست سمیت پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کی مینڈیٹ کو اپنے من پسند لوگوں کو سونپ دیااور بلوچستان ، پنجاب ،سندھ ومرکز میں اپنی لاسٹک کی حکومت بنائی جو مکمل طور پر فوجی جنتا کی امنگوں اور خواہشات کی تکمیل میں لگی ہوئی ہے ۔

جنرل عاصم منیر کے لئے فیلڈ مارشل کا اعزاز بھی فوجی جنتا کی جانب سے لایا گیا ایک پروجیکٹ تھا جسے کابینہ نے بس منظور کیا تھا۔

Share This Article