بلوچستان سے فرانس اسمگل کیے گئے قدیم نوادرات پاکستان کے حوالے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان سے فرانس اسمگل کیے گئے آثار قدیمہ کے نوادرات جنھیں فرانسیسی حکام نے ضبط کیا تھا پاکستان کے حوالے کردیئے گئے۔

نوادرات پیرس میں موجود پاکستانی سفارت خانہ نے واپس پاکستان بھجوا دیے۔

بلوچستان سے اسمگل کیے گئے قدیم نوادرات کی ایک بڑی تعداد جنہیں فرانسیسی کسٹمز نے حالیہ برسوں میں قبضے میں لے کر پاکستانی سفارتخانے، پیرس کے حوالے کیا تھا، انھیں پاکستان بھیج دیا گیا ہے۔

تاریخی لحاظ سے قیمتی نوادرات فرانسیسی کسٹمز نے 1970 کے یونیسکو کنونشن کے تحت ضبط کیے تھے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سال 2019 میں بھی فرانس نے 4 ہزار سال قبل مسیح پرانی 450 نوادرات پاکستان کے حوالے کی تھیں، جنہیں ایک دہائی قبل فرانسیسی کسٹمز حکام نے ضبط کیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2006 میں پیرس کے ایئرپورٹ پر کسٹمز ایجنٹس نے پاکستان سے آنے والا پارسل ضبط کیا تھا، جس میں 17 مٹی کے برتن موجود تھے، جنہیں ایک میوزیم لے جایا جانا تھا۔

اس حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ نوادرات 100 برس سے زائد قدیم ہیں لیکن ایک ماہر نے ان کا جائزہ لیا تھا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ یہ نوادرات 2 یا 3 ہزار قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں شاید بلوچستان میں موجود کھنڈرات سے چرایا گیا تھا۔

تحقیقات ایک سال کے عرصے تک جاری رہیں، اس دوران ہیرس گیلری پر بھی چھاپہ مارا گیا اور تفتیشں کاروں نے 4 ہزار سال قبل مسیح پرانی 445 اشیا ڈھونڈیں جن کی مالیت ایک لاکھ 39 یورو (ایک لاکھ 57 ہزار ڈالر) تھی۔

فرانسیسی کسٹمز نے 1970 کے یونیسکو کنونشن کے تحت ان قیمتی نوادرات کو پاکستان کے حوالے کیا، یونیسکو کنونشن کے تحت کسی ملک سے غیرقانونی طور پر اسمگل کی گئی قیمتی نوادرات واپس اسی ملک کو بھیجی جاتی ہیں، تاہم اس عمل سے قبل ایک طریقہ کار پر عمل کیا جاتا ہے۔

Share This Article