بی ایم سی ہاسٹلز 19 مئی کے سالانہ امتحان سے قبل بحال نہیں کئے گئے تو امتحانات کا بائیکاٹ کرینگے،طلبہ وطالبات

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بولان میڈیکل کالج کوئٹہ کے فرسٹ و سیکنڈ ایئر کے طلبہ و طالبات 19 مئی کو امتحانات کی آمد اور ہاسٹل کی بندش پرذہنی کوفت اور اضطراب کا شکار ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ ہاسٹلز گزشتہ سات ماہ سے بند ہیں ، امتحانات 19 مئی سے شروع ہو رہے ہیں، اور اب تک انتظامیہ کی جانب سے ہاسٹلز کھولنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ محض ایک نمائشی تقریب کے لیے طلبہ کو روکے ہوئے ہے، جبکہ وہ تقریب تاحال ہوئی ہی نہیں۔ طلبہ کا قیمتی وقت ضائع کیا جا رہا ہے، اور انہیں غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھا جا رہا ہے۔

طلبہ وطالبات نے کہا کہ ہمارے درمیان کئی ایسے طلبہ و طالبات ہیں جو دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور پرائیویٹ ہاسٹلز کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر ہاسٹلز فوری طور پر نہ کھولے گئے تو ہم امتحانات کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر صحت اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ایک طرف تعلیم کا دعویٰ کرتے ہیں، دوسری طرف تعلیمی ادارے بند رکھ کر کرپشن اور نااہلی کو فروغ دے رہے ہیں۔

پریشان حال طلبہ و طلابات نے کہا کہ ہم، بولان میڈیکل کالج کے فرسٹ اور سیکنڈ ایئر کے طلبہ و طالبات، مطالبہ کرتے ہیں کہ ہاسٹلز کو 19 مئی سے پہلے فوری طور پر کھولا جائے۔اگر ہمارے مطالبے پر عمل نہ کیا گیا تو ہم امتحانات کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Share This Article