جھائو،قلات و جیونی میں پاکستانی فورسز پر حملے و جھڑپیں

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مختلف علاقوں جھائو،قلات اور جیونی میں پاکستانی فورسز پر عسکریت پسندوں  کے حملوں اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔جس میں جانی نقصانات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

جھائو سے اطلاعات ہیں کہ گزشتہ شب آٹھ بجے جھاؤ کے علاقے کوٹو میں عسکریت پسندوں  نے فورسز کی چوکی پر راکٹوں اور جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا۔

علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ حملہ آدھے گھنٹے سے زائد جاری رہا۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حملوں کے دوران چوکی کے اندر چیخ و پکار قریبی گاؤں میں سنی گئی۔

رات کے حملے کےبعدآج آواران اسپتال میں دو ایمبولینس دیکھی گئیں ۔خیال کیا جارہا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں اور زخمی اہلکاروں کو لایا گیا ہے۔
تاہم اب تک کسی قسم کی کوئی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب ضلع قلات سے اطلاعات ہیں کہ گذشتہ شب عسکریت پسندوں کی بڑی تعداد نے فوج کے ایک کیمپ کو بڑی نوعیت کے حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

یہ حملہ قلات کے علاقے شیخڑی، مورگند میں کیا گیا جہاں فورسز کے مرکزی کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق گذشتہ شب گیارہ بجے سے صبح چار بجے تک علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سنی گئی۔

اس دوران ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کی پروازیں جاری رہی۔

حملے میں فورسز کو بڑے پیمانے پر نقصانات اٹھانے کی اطلاعات ہیں تاہم حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔

تیسرا واقعہ ضلع گوادر کے تحصیل جیونی میں پیش آیا جہاں پاکستانی فورسز کوسٹ گارڈز کے ایک گاڑی کو نامعلوم افراد نے بم حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد پولیس چونگی، تاک تیاب دپ کے مقام پر کوسٹ گارڈز کی گاڑی پر دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے۔

واقعہ کے بعد فورسز کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہوگئی تاہم ابتک عسکری ذرائع سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

اب تک ان حملوں کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

Share This Article