بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر داخلہ ضیااللہ لانگو نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہونے کی وجہ سے دہشتگردی کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے۔
غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ضیااللہ لانگو نے کہا کہ دہشتگرد چمن کا راستہ استعمال کرکے پاکستان آتے تھے اس لیے اب چمن سرحد پر آمد ورفت کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں براہ راست ملوث ہے اور افغانستان اپنی سرزمین استعمال کرنے کے لیے دے رہا ہے۔
ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ پاک افغان چمن سرحد پر اب پہلے جیسی آمد ورفت ممکن نہیں، آمد ورفت کے ضوابط پر عمل کیا جائے گا، سرحد کی بندش، پیدل آمد ورفت کے طریقہ کار تبدیل ہونے کے نتیجے میں متاثر اور بے روزگار ہونے والوں کو بھی سہولیات دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کو حکومت نے احساس پروگرام کے تحت امداد کی پیشکش کی ہے، ہمارے وہ لوگ جن کا روزگار جارہا ہے ہم انہیں بھوک سے مرنے نہیں دیں گے ان کے لیے حکومت ضرور قربانی دے گی۔
ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کے مسئلے کو اپوزیشن جماعتیں ہوں یا گزشتہ حکومت کسی نے صحیح طریقے سے دیکھا نہیں، لاپتا افراد کی حقیقی تعداد وہی ہے جو ان کے لواحقین نے بتائی ہے اور وہ 300کے لگ بھگ ہیں ان میں سے بھی 100 سے زائد لوگ اپنے گھروں کو واپس آچکے ہیں باقی بھی جلد آجائیں گے۔