بلوچستان کے ضلع گوادر کے علاقے جیونی میں فائرنگ سے پاکستانی فورسزکے زیر حراست نوجوان سمیت 2 افرادقتل کردیئے گئے۔جبکہ خضدار میں فائرنگ سے لیویز اہلکار ہلاک ہوگیا۔
ضلع گوادر کے تحصیل جیونی میں ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے ۔
لاش کی شناخت طارق ولد ابراہیم کلمتی کے نام سے ہوگئی ہے جو جیونی پانوان کا رہائشی بتایا جاتاہے ۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کو گزشتہ روز ( 11 مئی) کوعصر کے وقت جیونی سے پاکستانی فوج نے حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا اورقتل کے بعد آج اس کی لاش کڈ بازار پلیری پیشکان میں پھینک دی گئی جو مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے لوگوں کو نظر آئی۔
مقتول کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ایک کار ریسر ہونے کی وجہ سے وہ نوجوانوں میں مقبول تھے ۔
اس سے قبل 22 فروری 2023 کو بھی طارق اور ان کے بھائی سلمان کو فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔
جبکہ جیونی میں فائرنگ کے ایک دوسرے واقعہ میں ایک شخص کو قتل کردیا گیا۔
مقتول کی شناخت ملا شرف سید کے نام سے ہوگئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیونی میں شہزادہ بازار میں نامعلوم مسلح افراد کے فائرنگ سے وہ ہلاک ہوگئے ۔
واقعہ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آواز کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
کہا جارہا ہے کہ مقتول کا تعلق خفیہ اداروں سے تھا تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
ادھر خضدار کے علاقے باغبانہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے لیویز اہلکار ہلاک ہو گیا۔
مقتول کی شناخت بشیر زیب یوسفزئی لانگو ولد عبداللہ لانگو کے طور پر ہوگئی ہے، جو ضلع قلات کی تحصیل منگچر کے گاؤں یوسفزئی کے رہائشی تھے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ بشیر زیب آج صبح معمول کے مطابق ڈیوٹی کے لیے لیویز ٹریننگ سینٹر خضدار جا رہے تھے کہ باغبانہ ایریا میں نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
مقتول لیویز ٹریننگ سینٹر میں بطور کلاس فور ملازم فرائض انجام دے رہے تھے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور لیویز اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔