پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے علاقے تربت اور پسنی سے 4 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علا قے کلاتک سے اطلاعات ہیں کہ سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ) نے گزشتہ شب دو گھروں پر چھاپہ مارکر2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے جن کی اب کوئی خبر نہیں ہے۔
فیملی کے مطابق رات دو بجے کے قریب سی ٹی ڈی کی بھاری نفری نے گھروں کا گھیراؤ کرنے کے بعد اندر آکر تلاشی لی جہاں توڑ پھوڑ اور اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پہلے کامران امام اور بعد ازاں امتیاز خیال کے گھر سے انہیں اٹھاکر لاپتہ کیا۔
لاپتہ کئے گئے دونوں نوجوانوں کی شناخت کامران امام اور امتیاز خیال کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔
علاقائی ذرائع کے مطابق کامران امام بلوچی زبان کے نامور صحافی ،مدیر وپبلشرجمیل امام کے چھوٹے بھائی ہیں۔
دوسری جانب ضلع گوادر کے ساحلی شہر اور تحصیل پسنی سے فورسز نے مزید 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت ماجد علی ولد دلدار بلوچ اور نصیر احمد ولد رودین بلوچ کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔
کہا جارہا ہے کہ دونوں نوجوانوں کو پسنی کے زیرو پوائنٹ کے مقام پر 7 مئی کو فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
دونوں نوجوانوں کا تعلق پسنی کے علاقے شادی کور سے بتایا جارہا ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہیں۔
واضع رہے کہ پسنی سے گذشتہ ایک مہینے کے دوران روزانہ کی بنیاد پر متعدد نوجوانوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے جن میں زیادہ ترکم عمر اور طالب علم ہیں جبکہ ایک کمر عمر نوجوان کو شدید تشدد کے بعد چھوڑ دیا گیا ہے جسے تشویشناک حالت میں علاج کے لئے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔