بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک بیٹی کے لیے اس سے زیادہ تباہ کن بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اپنے والد کو اپنے جائز مقصد کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں جبری گمشدگی کے طور پر دیکھے۔ یہی درد مجھے بکھیرنے کے لیے کافی تھی، جس طرح میں تب ٹوٹ گئی تھی جب میرے بھائی کو لے جایا گیا تھا۔ پھر بھی میں نے اپنے آپ کو تب بھی ٹوٹنے نہیں دیا تھا اور اب بھی بکھرنے نہیں نہیں دوں گی۔
بی وائی سی رہنما نے کہا کہ جس چیز نے مجھے جھوڑے رکھا کیا وہ جیل کی دیواروں کے اندر سے گونجتی ہوئی کہانیاں ہیں۔۔۔۔ میرے ساتھیوں پر ڈھائے جانے والے غیر انسانی مظالم کی روزانہ کی خبریں، جبری گمشدگیوں اور خونریزی کی نہ ختم ہونے والی کہانیاں۔ یہ ہولناکیاں میرے عزم کو ہوا دیتی ہیں۔ وہ مجھے لڑنے کی طاقت دیتے ہیں، یہاں تک کہ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ بھی۔۔۔۔ اپنی آخری سانس تک لڑنے کے لیے۔
انہوں نے ایک اور پوسٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج شہریوں کی حفاظت کیوں کرے گی؟ وہ بھارت کے حملوں کو کیسے روکے گی جب کہ وہ اس وقت اپنی ہی آبادی کو دبانے میں مصروف ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ فوج نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ بیرونی خطرات سے دفاع نہیں کرے گی، بلکہ اپنے ہی لوگوں کی زندگیوں کواجیرن بنا ئے گی ۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف وہ بھارت جیسے بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے میں ناکام رہا ہے اور دوسری طرف بلوچ اور پشتون برادریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔ پشتون شہریوں پر بمباری کی گئی ہے، اور اپنے پیاروں کا ماتم کرنے والے مایوسی کے عالم میں احتجاج کر رہے ہیں۔
واضع رہے کہ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے والد کو پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جس کو ایک مہینے سے زائد کا عرصہ ہورہا ہے جبکہ ان کے والد کی رہائی صبیحہ بلوچ کی بلوچ یکجہتی کمیٹی سے مستعفیٰ یا گرفتاری دینے سے مشروط کی گئی ہے۔