گرفتار پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ کی بی ایل اے سے رحم و رہائی کی اپیل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)کے ہاتھوں منگچر سے گرفتار 5 پولیس اہلکاروں کی رہائی کے لئے ان کی اہلخانہ نے اپیل کی ہے۔

لسبیلہ پولیس کے مذکورہ اہلکاروں کو جمعہ کے روز بلوچستان کے ضلع قلات کے شہر منگچر میں ناکہ بندی کے دوران بی ایل اے کے سرمچاروں نے حراست میں لیاتھا جو ایک پولیس وین میں 10 قیدیوں کو لیکر گڈانی سے کوئٹہ جارہے تھے۔

بی ایل اے سرمچاروں نے قیدیوں کو آزاد کردیا تھا اور پانچوں پولیس اہلکاروں کو اپنے تحویل میں لے لیا تھا۔

لسبیلہ پولیس حکام نے اہلکاروں کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ حب پولیس کے سب انسپکٹر انور بلوچ، اے ایس آئی غلام سرور، سپاہی شبیر احمد، فراز احمد حوالدار، محمد اقبال شیخ سپاہی اور محمد ناصر سپاہی کو مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

مذکوروہ پولیس اہلکار گذشتہ پانچ دنوں سے بی ایل اے کی تحویل میں ہیں۔

گرفتار کئے گئے پانچ اہلکاروں میں شامل اے ایس آئی غلام سرور کے والدہ اور بیٹی نے ایک ویڈیو پیغام میں مسلح تنظیم سے اپیل کی ہے کہ وہ غلام سرور کو بلوچ ہونے کی بنیاد پر باحفاظت رہا کرے۔

کہا جارہا ہے کہ غلام سرور پر حب میں بلوچ خواتین کے احتجاج کے دوران مظاہرین پر تشدد اور گرفتاریوں کا الزام ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں سے تفتیش جاری ہے اور اگر وہ بلوچ تحریک مخالف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تو سزا کا اعلان کیا جائے گا بصورت دیگر انہیں رہا کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بی ایل اے کی حراست میں موجود سپاہی محمد ناصر کے اہلخانہ نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں ان کی رہائی کی اپیل کی تھی۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں پولیس سپاہی محمد ناصر کی والدہ نے کہا ہے کہ انکے بیٹے کا کسی سے دشمنی نہیں بچوں کے پیٹ پالنے کے لیے پولیس میں نوکری کررہے تھے۔

Share This Article