بلوچستان کے ضلع بولان میں آئی ای ڈی بم دھماکے کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے 7 اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دھماکہ بولان کے علاقے گیشتری میں اُس وقت ہوا جب فوج کی گاڑی امیر پوسٹ اور علی خان بیس کے درمیان راستے پر جارہی تھی۔
ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں ایک اسپیشل آپریشنز کمانڈر بھی شامل ہیں۔
ہلاک اہلکاروں کی شناخت اسپیشل آپریشنز کمانڈر طارق عمران ، نائیک آصف، صوبیدارعمر فاروق، نائیک مشکور، سپاہی واجد ، سپاہی محمد عاصم اور سپاہی کاشف کے طور پر ہوئی ہے۔
ان میں سے پانچ اہلکاروں کا تعلق یونٹ 135 W سے تھا۔
دھماکے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں میں سپاہی ذیشان، سپاہی شادمان، نائیک اویس (یونٹ 135 W)، جبکہ سپاہی زین اللہ اور سپاہی طیب شامل ہیں جن کا تعلق اسپیشل آپریشنز کمانڈ سے ہے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ علاقے میں 5 ہیلی کاپٹروں کو فضاء میں دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے سیکورٹی فورسزپرمذکور ہ حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ منگل کو عسکریت پسند ’بلوچ لبریشن آرمی‘ کی طرف سے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا گیا جس سے 7 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں بی ایل اے کو ’انڈین پراکسی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’علاقے میں موجود کسی بھی عسکریت پسند کو ختم کرنے کے لیے علاقے کی صفائی کی جا رہی ہے اور اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘
واضع رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی بھی بلوچ عسکریت پسند تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔