پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں شہادت پانے والے سرمچار نبیل ہوت اور زکا اللہ سنگھور کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
نمازجنازہ میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔
غائبانہ نماز جنازہ اتوار کو گوگدان میں تاریخی قبرستان میں ادا کردی گئی۔
غائبانہ نماز جنازہ کے بعد خواتین کی طرف سے قبروں پر پھول اور چادر چڑھائے گئے اور انہیں منظوم صورت میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
مذکورہ سرمچار تربت کے علاقے ڈنک میں 29 اپریل کی شب فوج کے ساتھ ایک جھڑپ میں شہید ہوئے تھے۔
بی ایل اے نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈنک میں 29 اپریل کی شب پاکستانی فوج نے بلوچ لبریشن آرمی کے شہری گوریلا نیٹ ورک کے ارکان کو گھیرنے کی کوشش کی، جس پر سرمچاروں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا۔ شب تین بجکر تیس منٹ پر شروع ہونے والی جھڑپیں صبح طلوع آفتاب تک جاری رہیں۔ سرمچار تین گھنٹوں تک اپنی پوزیشنز پر جمے رہے اور دشمن کو کاری ضربیں لگاتے رہے۔ اس دوران سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو بھی نشانہ بنایا اور بھاری جانی نقصان پہنچایا۔ ان جھڑپوں میں دشمن کے 13 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ جھڑپوں میں بلوچ لبریشن آرمی کے تین سرمچار شہید ہوئے، جن میں سنگت نبیل عرف علی، سنگت فیروز ساربان عرف نود بندگ، اور سنگت محمد عمر زکا عرف گرو شامل ہیں۔
واضع رہے کہ ان سرمچاروں کی لاشوں کی حوالگی کےلئے لواحقین نے تین دن تک سی پیک شاہراہ کوبلاک کرکے دھرنادیاتھا ۔گذشتہ شب انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات میں جب یہ بات سامنے آئی کہ فورسز حکام کے مطابق لاشوں کی حالت درست نہیں ، انہیں دفنادیا گیا ہے تو لواحقین نے دھرنا ختم کرکے ان کی غائبانہ نماز جنازہ اداکرنے کا فیصلہ کیا۔