تربت : نعشوں کی عدم حوالگی پردھرناختم ،غائبہ نماز جنازہ ادا کرنے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں نعشوں کی حوالگی کے لئے تین دنوں سے جاری رہنے والی روڈ بلاک دھرنانعشوں کی عدم حوالگی پر ختم کردیا گیا ہے ۔

لواحقین نے نعشوں کی غائبہ نماز جنازہ ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈی بلوچ اور کیساک کے مقامات پر جاری احتجاجی دھرنا پرامن طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جس کے بعد تربت سے کراچی اور کوئٹہ جانے والی ایم 8 شاہراہ کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آل پارٹیز کیچ، کیچ بار ایسوسی ایشن اور تربت سول سوسائٹی کے تعاون سے ضلعی انتظامیہ کیچ، ضلعی چیئرمین ہوتمان بلوچ کے کامیاب مذاکرات کے بعد رات کو دھرنا ختم کیا گیا۔

واضح رہے کہ ڈی بلوچ کراس پر گزشتہ 6 روز سے تربت تا گوادر اور کراچی شاہراہ، جبکہ کیساک کے مقام پر گزشتہ 3 روز سے تربت تا پنجگور و کوئٹہ شاہراہ بند تھی۔

دھرنا ان نوجوانوں کی لاشوں کی حوالگی کے مطالبے پر دیا گیا تھا جو تربت کے علاقے ڈنک میں پاکستانی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

ہلاک افراد کی شناخت گوکدان کے رہائشی نبیل ہوت، عمر سنگھور اور آبسر کے رہائشی فیروز ساربان کے طور پر ہوئی تھی۔

لواحقین کا مطالبہ تھا کہ لاشیں ان کے حوالے کی جائیں تاہم حکام نے بتایا کہ لاشوں کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے تدفین کر دی گئی ہے، اس لیے انہیں حوالہ نہیں کیا جا سکتا۔

دھرنے کے خاتمے کے بعد انسانی حقوق کے کارکن وسیم سفر نے لواحقین کی جانب سے دھرنا گاہ میں اعلان کیا کہ نبیل ہوت، عمر سنگھور اور فیروز ساربان کی غائبانہ نماز جنازہ آج بروز اتوار صبح ساڑھے دس بجے گوکدان اور آبسر میں ادا کی جائے گی۔

Share This Article