بلوچستان کے ضلع زیارت میں کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سیکورٹی فورسز کی مبینہ کارروائی میں 7 بلوچ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
پاکستانی میڈیا پر سی ٹی ڈی کے ذرائع کے حوالے سے چلنے والی خبر میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ زیارت کے علاقے چوتیر میں سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلح جھڑپ میں 7 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ۔
سی ٹی ڈی کے ذرائع کے دعوے کے مطابق ہلاک عسکریت پسندوں کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی، ہلاک عسکریت پسندوں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے، ملزمان عسکریت پسندی کی مختلف وارداتوں میں ملوث تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لاشوں کو فوری ڈسٹرکٹ اسپتال زیارت منتقل کردیا گیا ہے جہاں اب تک ان کی شناخت نہیں ہوئی ہے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ لاشیں ملنے پر مقامی افراد نے احتجاج کیا اور زیارت چوتیرشاہراہ کوبند کردیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق شاہراہ پر ٹریفک کی بحالی کےلیے انتظامیہ مظاہرین سے بات چیت کر رہی ہے۔
واضع رہے کہ ماضی میں سی ٹی ڈی کی اکثر کارروائیاں مشکوک رہی ہیں۔متعددکارروائیاں جعلی ثابت ہوئی جہاں لاپتہ افراد کوماورائے عدالت قتل کرکے ان کا تعلق مسلح تنظیموں سے ظاہر کی گئی ہے ۔
لاپتہ افراد لواحقین حالیہ کارروائی کو بھی مشکوک اور منصوبہ بند قرار دے رہے ہیں۔ اور انہیں خدشہ ہے کہ مارے جانے والے افراد لاپتہ افراد ہونگے۔