پاکستان میں ریاستی اداروں پر سرمایہ کاروں کو بے جا ہراساں کرنے و کام میں مداخلت کا الزام

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان میں کاروباری برادری اور متعلقہ وزارتوں کے حکام نے سرمایہ کاروں کو بے جا ہراساں کرنے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ایف آئی اے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے ریاستی حکام کی بے جا مداخلت کی روک تھام کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس کے دوران تاجر برادری نے ایف بی آر، ایف آئی اے اور صوبائی محکموں کی جانب سے غیر ضروری مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس میں مرکزی تاجر انجمنوں کے نمائندگان اور وزارت تجارت، صنعت، پیداوار اور وزارت خزانہ کے حکام نے شرکت کی۔

شرکا نے پاکستان بھر میں کاروباری سہولت مراکز اور ون ونڈو آپریشنز کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

معاون خصوصی نے متنبہ کیا کہ ریاستی حکام کی جانب سے غیر ضروری مداخلت سرمایہ کاری اور معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

تاجر برادری نے انسانی میل جول کو کم کرنے اور حکام کو حاصل صوابدیدی اختیارات کو ختم کرنے کے لیے متعلقہ عمل کی ڈیجیٹلائزیشن کا مطالبہ کیا۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ریاستی ادارے سہولتیں فراہم کرنے، صنعت کاروں کے تحفظ، حمایت کو یقینی بنانے اور کاروباری اعتماد کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں۔

اتفاق سے جب ایف بی آر کے افسران سے ان کے خلاف شکایات کا جواب مانگا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر اصلاحات جاری ہیں اور شکایات درج کرانے کا ڈیجیٹل نظام قائم کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایف آئی اے کے حکام کو قانون کے تحت ان کے کردار اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا۔

تاہم ہارون اختر خان نے کہا کہ زمینی حقائق مختلف ہیں اور کاروباری معاملات میں غیر ضروری مداخلت کے بارے میں باقاعدگی سے شکایات موصول ہوتی ہیں۔

Share This Article