وی بی ایم پی کا جبری گمشدگیوں و انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی دیگر پامالیوں کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر پرامن جہد کاروں کی گرفتاری کے خلاف 4 مئی کو کوئٹہ پریس کلب میں ایک سمینار کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس سمینار میں لاپتہ افراد کے لواحقین، سیاسی جماعتوں، طلباء تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کے رہنماؤں اور مختلف مکاتب فکر کے افراد کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

وی بی ایم پی کے رہنماؤں نے کہا کہ ان کی تنظیم ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے جو گزشتہ 16 برسوں سے جبری گمشدگیوں، ماورائے آئین اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف پرامن اور آئینی جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، جن پر الزامات ہیں انہیں عدالت میں پیش کرکے صفائی کا موقع دیا جائے، اور جو افراد دنیا میں نہیں رہے ان کے اہل خانہ کو سرکاری طور پر آگاہ کیا جائے۔

پریس کانفرنس میں تنظیم کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے طاقت کے بجائے سیاسی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ نمائندوں نے کہا کہ اگرچہ مختلف ادوار میں حکومتوں اور عدلیہ کی جانب سے یقین دہانیاں کرائی گئیں، لیکن عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے اور ریاستی ادارے بدستور بلوچستان کو محض سیکیورٹی مسئلہ سمجھ کر طاقت کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

وی بی ایم پی کی پریس کانفرنس میں کہا گیا ریاستی ادارے بلوچ عوام کے آئینی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں، ہزاروں افراد کو جبری لاپتہ کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعض کو ماورائے قانون قتل کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں۔

پریس کانفرنس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ، بیبرگ بلوچ اور غفار بلوچ سمیت دیگر کارکنوں کی گرفتاریوں کی سخت مذمت کی گئی۔ وی بی ایم پی کا کہنا تھا کہ ان پرامن کارکنوں کو تھری ایم پی او جیسے آمرانہ قوانین کے تحت قید کر کے انہیں اپنے قانونی دفاع کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔

آخر میں وی بی ایم پی نے حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں طاقت کا استعمال اور ماورائے آئین اقدامات بند کیے جائیں، لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے، الزامات کا سامنا کرنے والوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور بی وائی سی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام پرامن کارکنوں کو فوری طور پر غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔

Share This Article